گلہ کیوں ہو ملی ہم کو وفا کم
Ehtisham Bachhrayuni (b. 1939)گلہ کیوں ہو ملی ہم کو وفا کم
زمانے سے ہمیں تھے آشنا کم
خوشامد کم طلب کم التجا کم
وراثت میں ہمیں یہ سب ملا کم
بیاں کرتا پھروں حال غم دل
میری عادت میں یہ شامل رہا کم
بتوں والے بتوں سے ڈر رہے ہیں
خدا والوں کو ہے خوف خدا کم
مرے دامن پہ ہیں جن کی نگاہیں
وہ شاید دیکھتے ہیں آئنہ کم
کبھی میں پاؤں پھیلا کر نہ سویا
مرے قد سے رہی میری ردا کم
زباں پر احتشامؔ آیا تو ان کی
ہوا تو کچھ دلوں میں فاصلہ کم