وہ کون تھے

Ghayas Mateen (b. 1939)

وہ کون تھے

سحاب تھے کتاب تھے

مرے ہر اک سوال کا

جواب تھے

کہ خواب تھے

وہ کون تھے

ستارے تھے

کہ آسماں سے روشنی لئے ہوئے

زمیں پہ آ گئے تھے

میرے واسطے

وہ کون تھے

وہ ہم قلم وہ ہم زباں

وہ ہم یقیں وہ ہم گماں

وہ ہم خیال و ہم بیاں

وہ یوں ملے

کہ جیسے حافظے سے یاد

جیسے تشنہ مٹیوں سے بارشیں

کہ جیسے شام کو پرند

گھونسلوں سے جا ملیں

کہ جیسے ریگ زار کو

اماں ملے حیات کی

کہ جیسے میری ذات کو

اذاں ملی ہو ذات کی

وہ یوں ملے

تو اے زمین و آسماں کے نور

میرے مدعا

میں خواب دیکھتا ہوں

ڈھونڈھتا بھی ہوں بشارتیں

انہیں بھی

خواب دیکھنے

نظر ملے

یقین تراشنے گماں سے بھاگنے

ہنر ملے سفر ملے

وہ ظلم ہو کہ خوف ہو

وہ زخم ہو کہ چوٹ ہو

عذاب یا عتاب ہو

انہیں بچائے رکھ

تو اے مرے خدا

میں جب ملوں تو یوں ملوں

وہ جب ملیں تو یوں ملیں

کہ جیسے صبح شام سے

کوئی خود اپنے نام سے

کہ جیسے دھوپ چھاؤں سے

غریب شہر گاؤں سے

کہ جیسے لب دعاؤں سے

وہ یوں ملیں

میں یوں ملوں

مرے خدا

ہے یہ دعا

یہی دعا