عہد رفتہ کی لکیروں پہ نہ چلتے رہئے

Ehtisham Bachhrayuni (b. 1939)

عہد رفتہ کی لکیروں پہ نہ چلتے رہئے

وقت کے ساتھ خیالات بدلتے رہئے

ٹھوکریں کھا کے بہر گام سنبھلتے رہئے

منزل شوق بھی مل جائے گی چلتے رہئے

غنچہ و گل کو بصد شوق مسلتے رہئے

احتیاطاً کبھی کانٹوں پہ بھی چلتے رہئے

دوست بن بن کے یوں ہی زہر اگلتے رہئے

آستینوں میں مری شوق سے پلتے رہئے

قہقہے بن کے مرے لب پہ نہ ٹھہرے نہ سہی

اشک بن کر مری پلکوں پہ مچلتے رہئے

شبنم و برف کی ٹھنڈک ہے نہ پھولوں کی مہک

عشق اک آگ ہے اس آگ میں جلتے رہئے

آپ یوں ہی نکہت و نور کے چشمے بن کر

غم کی تاریک چٹانوں سے ابلتے رہئے

میرے گیتوں کا مدھر ساز نہ بنئے لیکن

سوز بن کر مرے نغمات میں ڈھلتے رہئے

احتشامؔ آپ کو جینے کی تمنا ہے اگر

زندگی کے نئے عنوان بدلتے رہئے