جان سی آ گئی ہے جان میں کیا

Ehtisham Bachhrayuni (b. 1939)

جان سی آ گئی ہے جان میں کیا

کہہ گئے ہیں وہ میرے کان میں کیا

مجھ سے حال دل تباہ نہ پوچھ

اب ہے اجڑے ہوئے مکان میں کیا

میرا ہر زخم کیوں مہکتا ہے

پھول رکھتے ہو تم کمان میں کیا

پوچھتے ہیں مجھے دکھا کے شفق

خون برسا ہے آسمان میں کیا

بات کہنے سے پیشتر سوچو

تیر لوٹ آئے گا کمان میں کیا

تیرا جلوہ ہے اور کچھ بھی نہیں

تو ہی تو ہے بھرے جہان میں کیا

بے وفا اس کو رو بہ رو کہئے

پڑ گئے قفل اب زبان میں کیا

پیار ہونٹوں پہ اور دل میں فریب

کیا زباں پر ہے اور گمان میں کیا

احتشامؔ ایک لفظ غم کی جگہ

اور ہے تیری داستان میں کیا