خون میں تمہارے ہیں
Ghayas Mateen (b. 1939)خون میں تمہارے ہیں
کون سے جس میں کم
سرخ یا سفید
ساعتوں کو گھول کر پیو
کہ دھوپ تیز ہے
کل جو ننھی کونپلیں تھیں
بیل بن کے
آسماں کا منہ چڑا رہی ہیں آج
روشنی سے دور
خاص موسموں کے پانیوں کی آس میں
بند منہ صدف لیے
گرد سے اٹی چھتوں سے اپنے سر نکال کر
پھیلتی ہی جا رہی ہیں
اور تم
دائیں پسلی ہاتھ میں لیے ہوئے
بائیں پسلی ڈھونڈنے
ہر اک آسماں کھنگال آئے ہو
شہاب ٹوٹ کر گریں کہ خواب دیکھتا نہیں
کوئی اداس راستوں کو دیکھ کر
رکا نہیں
زمیں سے آسماں کا تھا کبھی جو سلسلہ نہیں
بغیر تیشہ مر سکے کوئی یہاں
وہ داستاں کے شاہزادے ہیں کہاں