لکڑہارے

Ghayas Mateen (b. 1939)

لکڑہارے

چلو اس شہر سے

اور شہر کے لوگوں سے

جتنی دور ممکن ہو

نکل جائیں

اسی جنگل کی جانب

جہاں سے

آئے تھے

ہم تم

لکڑہارے

وہیں کی لکڑیاں کاٹیں

وہیں ریوڑ چرائیں

دھوپ سے

سبزے کا

جو رشتہ ہے

وہ رشتہ اگائیں

کنویں کے میٹھے پانی سے

چراغ اپنے جلائیں

لکڑہارے

یہاں تو

علی بابا

اور اس کا بھائی قاسم

وہ مرجینہ ہو یا ہو مصطفیٰ درزی

کہ ہوں چالیس ڈاکو

سبھی اس شہر کی دیوار میں محصور

سم سم

بھول بیٹھے ہیں

لکڑہارے

طلسم شہر میں ان کو

یوں ہی حیران پریشان چھوڑ کر نکلیں

اسی جنگل کی جانب

جہاں پر

پرندے ہیں مگر

ایسے نہیں ہیں

درندے ہیں مگر

ایسے نہیں ہیں