Poetry
Poet
Meter
- نفس نفس میں نہاں اضطراب ہوتا ہےبلا کی چیز یہ دور شباب ہوتا ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- نور ہی نور ہے ظلمات کے آئینے میںرقص کرتی ہے سحر رات کے آئینے میںD. Raj Kanwal (b. 1923)
- وفا جس کی ہستی میں شامل نہیں ہےوہ دل ہی محبت کے قابل نہیں ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- ہم کو چھیڑا تو مچل جائیں گے ارماں کی طرحہم پریشاں ہیں تری زلف پریشاں کی طرحD. Raj Kanwal (b. 1923)
- ہوش میں آتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعددن نکلتا ہے اندھیری رات ڈھل جانے کے بعدD. Raj Kanwal (b. 1923)
- یوں ہی جلائے چلو دوستو بھرم کے چراغکہ رہ نہ جائیں کہیں بجھ کے یہ الم کے چراغD. Raj Kanwal (b. 1923)
- آدمیت کی کمی آج جس انسان میں ہےوہ نہ ہندو میں ہے شامل نہ مسلمان میں ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- ایسا نہیں کہ ایک مرا گھر اداس ہےتیرے بغیر جو بھی ہے منظر اداس ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- با وقار لہجے میں پر اثر کہا جائےدل کا حال کچھ بھی ہو مختصر کہا جائےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- پہلے تو اس کی ذات غزل میں سمیٹ لوںپھر ساری کائنات غزل میں سمیٹ لوںChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- چہرے سے نمایاں ہے ایک ایک ادا غم کیانساں جسے کہتے ہیں تصویر ہے ماتم کیChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- حجاب بن کے وہ میری نظر میں رہتا ہےمجھی سے پردہ ہے میرے ہی گھر میں رہتا ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- رسن و دار سے یا کوئے بتاں سے اٹھےفتنہ ہر حال میں فتنہ ہے جہاں سے اٹھےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- سکوت غم کو بھی طرز بیاں کہنا ہی پڑتا ہےمحبت میں خموشی کو زباں کہنا ہی پڑتا ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- سونی سونی سی ہے ہر بزم سخن تیرے بعدختم ہے سلسلۂ عظمت فن تیرے بعدChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- غم کی آغوش میں جو پلتے ہیںوہی دنیا کا رخ بدلتے ہیںChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- کون جانے کہ تخیل میں ہیں پیکر کتنےبت تراشے گا ابھی اور یہ آذر کتنےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- میں تیرگی سے گزرتا ہوں روشنی کی طرحمجھے شعور ہے جینے کا آدمی کی طرحChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- وہ دل کشی وہ روشنئ بام و در گئیتم کیا گئے کہ رونق شام و سحر گئیChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- وہ کیا جواب دے عرض سوال سے پہلےنہ سمجھے بات جو اظہار حال سے پہلےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- ہوئی جب شمع روشن بزم میں پروانے جاگ اٹھےجنوں نے اس طرح انگڑائی لی دیوانے جاگ اٹھےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- ہائے کتنا لطیف ہے وہ غمجس نے بخشا ہے زندگی کا شعورChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- اپنی محبتوں کا یہ اچھا صلہ ملاجو بھی ملا مجھے وہ مجھی سے خفا ملاQadir Siddiqi (b. 1923)
- بدلی ہوئی نظروں سے اب بھی انداز پرانے مانگے ہےدل میرا کتنا مورکھ ہے وہ بیتے زمانے مانگے ہےQadir Siddiqi (b. 1923)
- بیکار بھی اس دور میں بیکار نہیں ہےاس دور ترقی پہ بہت ناز نہ کیجےQadir Siddiqi (b. 1923)
- پیار کا آج چلن دوستو دشوار ہے کیوںآج انسان خود انسان سے بیزار ہے کیوںQadir Siddiqi (b. 1923)
- تیرا فراق عرصۂ محشر لگا مجھےجب بھی خیال آیا بڑا ڈر لگا مجھےQadir Siddiqi (b. 1923)
- حق وفاؤں کا جفاؤں سے ادا کرتے ہیں لوگآج کی دنیا کو کیا کہیے کہ کیا کرتے ہیں لوگQadir Siddiqi (b. 1923)
- حیراں ہیں سارے آئینے ماضی و حال کےجلوے بکھر گئے ہیں یہ کس خوش جمال کےQadir Siddiqi (b. 1923)
- دل مضمحل ہے ان کے خیالوں کے باوجوداک سیل تیرگی ہے اجالوں کے باوجودQadir Siddiqi (b. 1923)
- رفتہ رفتہ دل میں اک الجھن نئی پاتے ہیں ہمہم یہ سمجھے تھے کہ ان کو بھولتے جاتے ہیں ہمQadir Siddiqi (b. 1923)
- رہے ہمیشہ مخاطب بس اپنی ذات سے ہمرجوع ہوتے بھی کیا حسن کائنات سے ہمQadir Siddiqi (b. 1923)
- غم گناہ سے فکر نجات سے الجھےتمام عمر ہم افسون ذات سے الجھےQadir Siddiqi (b. 1923)
- گیا وہ دور تو خوابوں کے سلسلے بھی گئےدل و نگاہ کے پر کیف حوصلے بھی گئےQadir Siddiqi (b. 1923)
- مٹنے کا جنوں لٹنے کا ارماں نظر آیاآپ آئے تو کچھ جینے کا ساماں نظر آیاQadir Siddiqi (b. 1923)
- وائے قسمت کہ قریب اس نے نہ آنا چاہاعمر بھر ہم نے جسے اپنا بنانا چاہاQadir Siddiqi (b. 1923)
- ہم پھرے شہر میں آوارہ و رسوا برسوںدل کے مندر میں ترے وہم کو پوجا برسوںQadir Siddiqi (b. 1923)
- کتنے مہ و انجم ہیں ضیا پاش ازل سےلیکن نہ ہوئی کم دل انساں کی سیاہیQadir Siddiqi (b. 1923)
- ان کی نگہ ناز کے ٹھکرائے ہوئے ہیںہم جرم محبت کی سزا پائے ہوئے ہیںVafa Malikpuri (1923–2003)
- بتوں کا ساتھ دیا بت شکن کا ساتھ دیافریب عشق نے ہر حسن ظن کا ساتھ دیاVafa Malikpuri (1923–2003)
- بوئے گل رنگ حنا ناز نسیم سحریترے افسوں کی سب اے دوست ہے افسانہ گریVafa Malikpuri (1923–2003)
- تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پروفاؔ کو آ ہی گئی نیند رات ڈھلنے پرVafa Malikpuri (1923–2003)
- حسن خود بیں کا اشارہ مجھے معلوم نہ تھاان کی آنکھوں میں ہے شکوہ مجھے معلوم نہ تھاVafa Malikpuri (1923–2003)
- رات گزری تو یقیں تھا کہ سویرا ہوگاکیا خبر تھی کہ وہی گھور اندھیرا ہوگاVafa Malikpuri (1923–2003)
- سوز غم سے جگر جل رہا ہے مگر مرا درد نہاں آشکارا نہیںگھٹ کے مرنا گوارا ہے اے چارہ گر راز الفت عیاں ہو گوارا نہیںVafa Malikpuri (1923–2003)
- کبھی چمن سے کبھی انجمن سے گزرے ہیںپڑا ہے وقت تو دار و رسن سے گزرے ہیںVafa Malikpuri (1923–2003)
- مجھے سنو کہ حدیث غزل نما ہوں میںمجھے پڑھو ورق مصحف وفا ہوں میںVafa Malikpuri (1923–2003)
- ممنون گیسو و لب و رخسار کون ہےمجھ سا شہید طالع بیدار کون ہےVafa Malikpuri (1923–2003)
- نئی سحر ہے یہ لوگو نیا سویرا ہےطلوع ہو چکا سورج مگر اندھیرا ہےVafa Malikpuri (1923–2003)
- ہر ایک آنکھ کو ذوق جمال دے یا ربدلوں کو عشق و وفا کا جلال دے یا ربVafa Malikpuri (1923–2003)