Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. نفس نفس میں نہاں اضطراب ہوتا ہےبلا کی چیز یہ دور شباب ہوتا ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
  2. نور ہی نور ہے ظلمات کے آئینے میںرقص کرتی ہے سحر رات کے آئینے میںD. Raj Kanwal (b. 1923)
  3. وفا جس کی ہستی میں شامل نہیں ہےوہ دل ہی محبت کے قابل نہیں ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
  4. ہم کو چھیڑا تو مچل جائیں گے ارماں کی طرحہم پریشاں ہیں تری زلف پریشاں کی طرحD. Raj Kanwal (b. 1923)
  5. ہوش میں آتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعددن نکلتا ہے اندھیری رات ڈھل جانے کے بعدD. Raj Kanwal (b. 1923)
  6. یوں ہی جلائے چلو دوستو بھرم کے چراغکہ رہ نہ جائیں کہیں بجھ کے یہ الم کے چراغD. Raj Kanwal (b. 1923)
  7. آدمیت کی کمی آج جس انسان میں ہےوہ نہ ہندو میں ہے شامل نہ مسلمان میں ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  8. ایسا نہیں کہ ایک مرا گھر اداس ہےتیرے بغیر جو بھی ہے منظر اداس ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  9. با وقار لہجے میں پر اثر کہا جائےدل کا حال کچھ بھی ہو مختصر کہا جائےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  10. پہلے تو اس کی ذات غزل میں سمیٹ لوںپھر ساری کائنات غزل میں سمیٹ لوںChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  11. چہرے سے نمایاں ہے ایک ایک ادا غم کیانساں جسے کہتے ہیں تصویر ہے ماتم کیChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  12. حجاب بن کے وہ میری نظر میں رہتا ہےمجھی سے پردہ ہے میرے ہی گھر میں رہتا ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  13. رسن و دار سے یا کوئے بتاں سے اٹھےفتنہ ہر حال میں فتنہ ہے جہاں سے اٹھےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  14. سکوت غم کو بھی طرز بیاں کہنا ہی پڑتا ہےمحبت میں خموشی کو زباں کہنا ہی پڑتا ہےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  15. سونی سونی سی ہے ہر بزم سخن تیرے بعدختم ہے سلسلۂ عظمت فن تیرے بعدChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  16. غم کی آغوش میں جو پلتے ہیںوہی دنیا کا رخ بدلتے ہیںChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  17. کون جانے کہ تخیل میں ہیں پیکر کتنےبت تراشے گا ابھی اور یہ آذر کتنےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  18. میں تیرگی سے گزرتا ہوں روشنی کی طرحمجھے شعور ہے جینے کا آدمی کی طرحChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  19. وہ دل کشی وہ روشنئ بام و در گئیتم کیا گئے کہ رونق شام و سحر گئیChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  20. وہ کیا جواب دے عرض سوال سے پہلےنہ سمجھے بات جو اظہار حال سے پہلےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  21. ہوئی جب شمع روشن بزم میں پروانے جاگ اٹھےجنوں نے اس طرح انگڑائی لی دیوانے جاگ اٹھےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  22. ہائے کتنا لطیف ہے وہ غمجس نے بخشا ہے زندگی کا شعورChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  23. اپنی محبتوں کا یہ اچھا صلہ ملاجو بھی ملا مجھے وہ مجھی سے خفا ملاQadir Siddiqi (b. 1923)
  24. بدلی ہوئی نظروں سے اب بھی انداز پرانے مانگے ہےدل میرا کتنا مورکھ ہے وہ بیتے زمانے مانگے ہےQadir Siddiqi (b. 1923)
  25. بیکار بھی اس دور میں بیکار نہیں ہےاس دور ترقی پہ بہت ناز نہ کیجےQadir Siddiqi (b. 1923)
  26. پیار کا آج چلن دوستو دشوار ہے کیوںآج انسان خود انسان سے بیزار ہے کیوںQadir Siddiqi (b. 1923)
  27. تیرا فراق عرصۂ محشر لگا مجھےجب بھی خیال آیا بڑا ڈر لگا مجھےQadir Siddiqi (b. 1923)
  28. حق وفاؤں کا جفاؤں سے ادا کرتے ہیں لوگآج کی دنیا کو کیا کہیے کہ کیا کرتے ہیں لوگQadir Siddiqi (b. 1923)
  29. حیراں ہیں سارے آئینے ماضی و حال کےجلوے بکھر گئے ہیں یہ کس خوش جمال کےQadir Siddiqi (b. 1923)
  30. دل مضمحل ہے ان کے خیالوں کے باوجوداک سیل تیرگی ہے اجالوں کے باوجودQadir Siddiqi (b. 1923)
  31. رفتہ رفتہ دل میں اک الجھن نئی پاتے ہیں ہمہم یہ سمجھے تھے کہ ان کو بھولتے جاتے ہیں ہمQadir Siddiqi (b. 1923)
  32. رہے ہمیشہ مخاطب بس اپنی ذات سے ہمرجوع ہوتے بھی کیا حسن کائنات سے ہمQadir Siddiqi (b. 1923)
  33. غم گناہ سے فکر نجات سے الجھےتمام عمر ہم افسون ذات سے الجھےQadir Siddiqi (b. 1923)
  34. گیا وہ دور تو خوابوں کے سلسلے بھی گئےدل و نگاہ کے پر کیف حوصلے بھی گئےQadir Siddiqi (b. 1923)
  35. مٹنے کا جنوں لٹنے کا ارماں نظر آیاآپ آئے تو کچھ جینے کا ساماں نظر آیاQadir Siddiqi (b. 1923)
  36. وائے قسمت کہ قریب اس نے نہ آنا چاہاعمر بھر ہم نے جسے اپنا بنانا چاہاQadir Siddiqi (b. 1923)
  37. ہم پھرے شہر میں آوارہ و رسوا برسوںدل کے مندر میں ترے وہم کو پوجا برسوںQadir Siddiqi (b. 1923)
  38. کتنے مہ و انجم ہیں ضیا پاش ازل سےلیکن نہ ہوئی کم دل انساں کی سیاہیQadir Siddiqi (b. 1923)
  39. ان کی نگہ ناز کے ٹھکرائے ہوئے ہیںہم جرم محبت کی سزا پائے ہوئے ہیںVafa Malikpuri (1923–2003)
  40. بتوں کا ساتھ دیا بت شکن کا ساتھ دیافریب عشق نے ہر حسن ظن کا ساتھ دیاVafa Malikpuri (1923–2003)
  41. بوئے گل رنگ حنا ناز نسیم سحریترے افسوں کی سب اے دوست ہے افسانہ گریVafa Malikpuri (1923–2003)
  42. تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پروفاؔ کو آ ہی گئی نیند رات ڈھلنے پرVafa Malikpuri (1923–2003)
  43. حسن خود بیں کا اشارہ مجھے معلوم نہ تھاان کی آنکھوں میں ہے شکوہ مجھے معلوم نہ تھاVafa Malikpuri (1923–2003)
  44. رات گزری تو یقیں تھا کہ سویرا ہوگاکیا خبر تھی کہ وہی گھور اندھیرا ہوگاVafa Malikpuri (1923–2003)
  45. سوز غم سے جگر جل رہا ہے مگر مرا درد نہاں آشکارا نہیںگھٹ کے مرنا گوارا ہے اے چارہ گر راز الفت عیاں ہو گوارا نہیںVafa Malikpuri (1923–2003)
  46. کبھی چمن سے کبھی انجمن سے گزرے ہیںپڑا ہے وقت تو دار و رسن سے گزرے ہیںVafa Malikpuri (1923–2003)
  47. مجھے سنو کہ حدیث غزل نما ہوں میںمجھے پڑھو ورق مصحف وفا ہوں میںVafa Malikpuri (1923–2003)
  48. ممنون گیسو و لب و رخسار کون ہےمجھ سا شہید طالع بیدار کون ہےVafa Malikpuri (1923–2003)
  49. نئی سحر ہے یہ لوگو نیا سویرا ہےطلوع ہو چکا سورج مگر اندھیرا ہےVafa Malikpuri (1923–2003)
  50. ہر ایک آنکھ کو ذوق جمال دے یا ربدلوں کو عشق و وفا کا جلال دے یا ربVafa Malikpuri (1923–2003)