گیا وہ دور تو خوابوں کے سلسلے بھی گئے

Qadir Siddiqi (b. 1923)

گیا وہ دور تو خوابوں کے سلسلے بھی گئے

دل و نگاہ کے پر کیف حوصلے بھی گئے

وہی گئے تو پھر اب شکوہ و شکایت کیا

شکایتیں گئیں شکوے گئے گلے بھی گئے

بکھر کے رہ گئی تصویر آرزوؤں کی

امید و آس و تمنا کے قافلے بھی گئے

یہی نہیں کہ بہت سی لطافتیں روٹھیں

ادا و ناز کے رنگین مرحلے بھی گئے

بجھے بجھے سے ہیں آشاؤں کے کنول قادر

خروش زیست گیا دل کے ولولے بھی گئے