وفا جس کی ہستی میں شامل نہیں ہے

D. Raj Kanwal (b. 1923)

وفا جس کی ہستی میں شامل نہیں ہے

وہ دل ہی محبت کے قابل نہیں ہے

جو منزل پہ لے جائے طوفاں کہاں کا

جو کشتی ڈبو دے وہ ساحل نہیں ہے

ارادوں پہ قائم ہے ہستی ہماری

اگر جینا چاہو تو مشکل نہیں ہے

چراغوں کے بدلے یہاں دل جلاؤ

یہ دنیا ستاروں کی محفل نہیں ہے

جدھر سے وہ گزرے یہی شور اٹھا

مرا دل نہیں ہے مرا دل نہیں ہے

زمانے کی گردش میں الجھا ہوا ہوں

مرا دل مگر تجھ سے غافل نہیں ہے

کنولؔ جس کو سمجھا ہے تو اپنی منزل

وہ منزل کا دھوکا ہے منزل نہیں ہے