نفس نفس میں نہاں اضطراب ہوتا ہے

D. Raj Kanwal (b. 1923)

نفس نفس میں نہاں اضطراب ہوتا ہے

بلا کی چیز یہ دور شباب ہوتا ہے

ہے دفن اس میں ہر اک زندگی کا افسانہ

ہر ایک چہرہ مکمل کتاب ہوتا ہے

کسی کی یاد میں گزرا ہوا ہر اک لمحہ

بہت حسین بہت لاجواب ہوتا ہے

کسی کا نام بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا

گل گلاب ہمیشہ گلاب ہوتا ہے

وفا میں جان بھی جائے تو غم نہ کر اے دل

وفا کی راہ میں مٹنا ثواب ہوتا ہے

مرے سلام محبت پہ آپ چپ کیوں ہیں

ہر اک سوال کا کچھ تو جواب ہوتا ہے

جنہیں نصیب ہوئی ہے کنولؔ شب ہجراں

انہیں خبر ہے کہ کیا اضطراب ہوتا ہے