غم کی آغوش میں جو پلتے ہیں

Chandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)

غم کی آغوش میں جو پلتے ہیں

وہی دنیا کا رخ بدلتے ہیں

خار تو کیا ہیں ہم گلوں سے بھی

اپنا دامن بچا کے چلتے ہیں

انہی خاموش سی فضاؤں میں

کتنے طوفان ہیں جو پلتے ہیں

لاکھ کانٹے بچھے ہوں راہوں میں

چلنے والے ضرور چلتے ہیں

منزلیں چومتی ہیں ان کے قدم

آپ جو اپنی راہ چلتے ہیں

ہیں وہی اصل میں زمانہ شناس

جو زمانے کے ساتھ چلتے ہیں

ان کو ملتی ہے زندگیٔ دوام

ٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیں

شعبدے دیکھ چشم ساقی کے

مے چھلکتی ہے جام چلتے ہیں

خوف سے رہزنوں کے اے جوہرؔ

ہم کہیں راستہ بدلتے ہیں