سکوت غم کو بھی طرز بیاں کہنا ہی پڑتا ہے

Chandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)

سکوت غم کو بھی طرز بیاں کہنا ہی پڑتا ہے

محبت میں خموشی کو زباں کہنا ہی پڑتا ہے

کبھی ہم مہرباں کو مہرباں کہتے بھی ڈرتے ہیں

کبھی نا مہرباں کو مہرباں کہنا ہی پڑتا ہے

تقاضائے وفا کہئے اسے یا مصلحت کہئے

زباں رکھ کر بھی خود کو بے زباں کہنا ہی پڑتا ہے

کہاں تک ضبط کا دامن نہ چھوڑیں ہم بھی انساں ہیں

کسی سے تو کبھی درد نہاں کہنا ہی پڑتا ہے

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خود منزل سے گھبرا کر

غبار کارواں کو کارواں کہنا ہی پڑتا ہے

میسر جس قفس میں ہو گلستاں کی سی آزادی

تو پھر ایسے قفس کو آشیاں کہنا ہی پڑتا ہے

گزر جاتے ہیں جو لمحے تری یادوں کے سائے میں

انہیں تسکین دل آرام جاں کہنا ہی پڑتا ہے

جہاں صیاد رکھ دیتا ہے کچھ تنکے نشیمن کے

ہمیں پھر اس جگہ کو آشیاں کہنا ہی پڑتا ہے

حریم ناز میں فریاد کا کیا کام اے جوہرؔ

فغاں کو بھی یہاں ننگ فغاں کہنا ہی پڑتا ہے