آدمیت کی کمی آج جس انسان میں ہے
Chandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)آدمیت کی کمی آج جس انسان میں ہے
وہ نہ ہندو میں ہے شامل نہ مسلمان میں ہے
زندگانی کا امنڈتا ہوا یہ سیل رواں
جو سفینہ ہے تلاطم میں ہے طوفان میں ہے
اس زمانے کے مسائل کا سلجھنا معلوم
زیست الجھی ہوئی خود اپنے گریبان میں ہے
امن و تہذیب پہ ہے موت کا عالم طاری
دیکھیے جس کو وہی جنگ کے میدان میں ہے
حرم و دیر کی تصویر مجسم ہوں میں
کفر کا رنگ بھی شامل مرے ایمان میں ہے
اس حقیقت کا نہیں سارے زمانے میں جواب
جو حقیقت مرے افسانے کے عنوان میں ہے
جو بھی پڑھتا ہے وہی داد سخن دیتا ہے
کوئی تاثیر تو جوہرؔ ترے دیوان میں ہے