چہرے سے نمایاں ہے ایک ایک ادا غم کی

Chandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)

چہرے سے نمایاں ہے ایک ایک ادا غم کی

انساں جسے کہتے ہیں تصویر ہے ماتم کی

کیوں ہم کو ڈراتے ہو آشوب جہنم سے

دنیا بھی تو آخر ہے اک شکل جہنم کی

مجبوری و معذوری محرومی و ناکامی

آخر کوئی حد بھی ہے اس سلسلۂ غم کی

ہر آن مقابل ہے یہ مہر درخشاں کے

جرأت تو کوئی دیکھے اک قطرۂ شبنم کی

جنت سے نکل کر پھر جنت نہ ملی اس کو

کیا کیا ابھی لکھا ہے تقدیر میں آدم کی

درکار ہے گیتی کو پھر تازہ لہو شاید

سرخی یہی کہتی ہے افسانۂ عالم کی

گرداب میں اے جوہرؔ یہ کس کا سفینہ ہے

موجوں کے تلاطم میں آواز ہے ماتم کی