ہوئی جب شمع روشن بزم میں پروانے جاگ اٹھے

Chandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)

ہوئی جب شمع روشن بزم میں پروانے جاگ اٹھے

جنوں نے اس طرح انگڑائی لی دیوانے جاگ اٹھے

بہ فیض چشم ساقی بزم میں پیمانے جاگ اٹھے

ادھر گردش میں جام آئے ادھر میخانے جاگ اٹھے

یہ کس جان بہاراں نے بہ انداز کرم دیکھا

مقدر کھل گئے صحراؤں کے ویرانے جاگ اٹھے

خدا معلوم کیا تاثیر تھی رندوں کی آمد میں

قدم رکھا ادھر اور اس طرف میخانے جاگ اٹھے

کسی کو تو نوائے درد سن کر جاگنا ہی تھا

اگر اپنے نہیں جاگے تو کیا بیگانے جاگ اٹھے

موذن کی صدائے دلنشیں کا یہ اثر دیکھا

حرم والوں کی آنکھیں کھل گئیں بت خانے جاگ اٹھے

یہ کس نے ذکر چھیڑا اس سراپا ناز کا جوہرؔ

کہ حسن و عشق کے سوئے ہوئے افسانے جاگ اٹھے