رسن و دار سے یا کوئے بتاں سے اٹھے

Chandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)

رسن و دار سے یا کوئے بتاں سے اٹھے

فتنہ ہر حال میں فتنہ ہے جہاں سے اٹھے

کتنے جاں سوز و دل آویز ہیں وہ نغمے بھی

شعلہ بن کر جو مرے حسن بیاں سے اٹھے

دونوں عالم میں کہیں ان کو ٹھکانا نہ ملا

جو تری بزم سے اٹھے وہ جہاں سے اٹھے

ہائے وہ نالے کہ جو عرش بریں تک پہنچے

اف وہ طوفاں جو مرے اشک رواں سے اٹھے

کشش حسن نے اک گام بھی چلنے نہ دیا

پھر وہیں بیٹھ گئے لوگ جہاں سے اٹھے

کام کچھ کر نہ سکا واعظ ناداں کا طلسم

کتنے طوفاں مری خاموش فغاں سے اٹھے

ان حجابات کی عظمت کو کہوں کیا جوہرؔ

جو یقیں بن کے مرے وہم و گماں سے اٹھے