Poetry
Hazaj Musamman Maqbuz
ہزج مثمن مقبوض- کبھی یہاں لیے ہوئے کبھی وہاں لیے ہوئےپھری ہے جستجو تری کہاں کہاں لیے ہوئےBedam Warsi (1876–1936)
- تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرحمیں ایک حرف ہوں مگر نشان آب کی طرحAsghar Gondvi (1884–1936)
- گاندھیؔ جی کی یاد میں!Jigar Moradabadi (1890–1960)
- نہ اضطراب غزنوی نہ مشرب ایاز ہےنہ خون میں حرارتیں نہ سوز ہے نہ ساز ہےQaisar Amravatwi (1894–1966)
- یہ کون مسکراہٹوں کا کارواں لئے ہوئےشباب شعر و رنگ و نور کا دھواں لئے ہوئےFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- بصد ادائے دلبری ہے التجائے مے کشییہ ہوش اب کسے کہ مے حرام یا حلال ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- جو اشک دل گداز میں شرر نہ ہو لہو نہ ہویہ واقعہ ہے عشق سادہ لوح سرخ رو نہ ہوFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- نہ ان کا ذہن صاف ہے نہ میرا قلب صاف ہےتو کیوں دلوں میں جا گزیں وہ بنت صد عفاف ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- یہ نیم خواب گھاس پر اداس اداس نقش پاکچل رہا ہے شبنمی لباس کی حیات کوAkhtar-ul-Iman (1915–1996)
- تمام رات آنسوؤں سے غم اجالتا رہامیں غم اجال اجال کر خوشی میں ڈھالتا رہاHafeez Merathi (1922–2000)
- گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاںہم ایسے لوگ اب ملیں حکایتوں کے درمیاںAda Jafri (1924–2015)
- یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیںیہ حال تھا کہ دل کو اسم آرزو ملا نہیںAda Jafri (1924–2015)
- دیار دل کی رات میں چراغ سا جلا گیاملا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیاNasir Kazmi (1925–1972)
- خیال و خواب بن کے میرے ذہن سے لپٹ گئےوہ اتنی دور ہو گئے کہ فاصلے سمٹ گئےQaisarul Jafri (1926–2005)
- خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھےسوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھےMunir Niazi (1928–2006)
- نگر میں شام ہو گئی ہے کاہش معاش میںزمیں پہ پھر رہے ہیں لوگ رزق کی تلاش میںMunir Niazi (1928–2006)
- حضور آپ اور نصف شب مرے مکان پرحضور کی تمام تر بلائیں میری جان پرAhmad Faraz (1931–2008)
- میورکا کے ساحلوں پہ کس قدر گلاب تھےکہ خوشبوئیں تھی بے طرح کہ رنگ بے حساب تھےAhmad Faraz (1931–2008)
- یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہےحد نگاہ تک جہاں غبار ہی غبار ہےShahryar (1936–2012)
- کسی کے فیض قرب سے حیات اب سنور گئینفس نفس مہک اٹھا نظر نظر نکھر گئیUnwan Chishti (1937–2004)
- یقین کا اگر کوئی بھی سلسلہ نہیں رہاتو شکر کیجیے کہ اب کوئی گلا نہیں رہاJaved Akhtar (b. 1945)
- وطن کے جاں نثار ہیں وطن کے کام آئیں گےہم اس زمیں کو ایک روز آسماں بنائیں گےJafar Malihabadi (b. 1946)
- وہ خواب تھا بکھر گیا خیال تھا ملا نہیںمگر یہ دل کو کیا ہوا کیوں بجھ گیا پتا نہیںIftikhar Imam Siddiqi (b. 1947)
- یہ دل کی داستان ہے کہ دل غلام کر دیاعجیب لوگ آپ ہیں عجیب کام کر دیاSabiha Saba (b. 1950)
- نہ دل میں کوئی غم رہے نہ میری آنکھ نم رہےہر ایک درد کو مٹا شراب لا شراب دےIbrahim Ashk (b. 1951)
- سبھی گناہ دھل گئے سزا ہی اور ہو گئیمرے وجود پر تری گواہی اور ہو گئیParveen Shakir (1952–1994)
- گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھامرا اور اس کا رابطہ تو ہاتھ اور دعا کا تھاParveen Shakir (1952–1994)
- جو تو نہیں تو موسم ملال بھی نہ آئے گاگئے دنوں کے بعد عہد حال بھی نہ آئے گاYaqoob Yawar (b. 1952)
- ہم اپنی پشت پر کھلی بہار لے کے چل دیےسفر میں تھے سفر کا اعتبار لے کے چل دیےYaqoob Yawar (b. 1952)
- وہ خواب یا خیال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوںجو رنج ماہ و سال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوںIftikhar Shahid Abu Saad (b. 1960)
- اداس نینا جو برستے ہیں سحاب کی طرحتو غم کے پھول بھی مہکتے ہیں گلاب کی طرحVandana Bhardwaj Tiwary Vani (b. 1986)
- پسند نا پسند کا کوئی بھی ضابطہ نہیںکبھی بھلا بھی ہے برا کبھی برا برا نہیںObaidurrahman Niyazi (b. 1987)
- وہ شخص آج مجھ کو ایک آئنہ دکھا گیاطلب کے بھی اصول ہیں یہی مجھے بتا گیاDanish Asari (b. 1991)
- وہ جس کے آنے ہی سے بزم روشنی سے بھر گئیکہاں سے آئی تھی یہاں وہ کون تھی کدھر گئیMadhav Jha (b. 1997)
- تمام ہوش ضبط علم مصلحت کے بعد بھیپھر اک خطا میں کر گیا تھا معذرت کے بعد بھیPallav Mishra (b. 1998)
- خیال حسن بے مثال دسترس میں آ گیاخودی پہ اختیار میرا پیش و پس میں آ گیاJaani Lakhnavi (b. 1998)
- یہی گمان گھومتا ہے خیمۂ خیال میںنگاہ غرق ہو گئی ہے کس کے خد و خال میںYasir Guman (b. 2001)
- حجاب میں حبیب ہے یہ عشق بھی عجیب ہےکہ سامنے رقیب ہے یہ عشق بھی عجیب ہےVakeel Ahmad Hayat (b. 2001)
- بغیر زیوروں کے بھی حسین ہے یقین ہےوفا جو اوڑھ لے وہ نازنین ہے یقین ہےLankesh Gautam (b. 2003)
- سفر کی ابتدا ہوئی کہ تیرا دھیان آ گیامری زمیں کے سامنے اک آسمان آ گیاSaleem Kausar
- کدورتوں کے درمیاں عداوتوں کے درمیاںتمام دوست اجنبی ہیں دوستوں کے درمیاںPirzada Qasim
- وفور اشتیاق میں زباں سے کیا نکل گیاپھر اس کے بعد بزم کا مزاج ہی بدل گیاBadr Muneer
- تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیںخطا معاف یہ تمہارے بس کی بات ہی نہیںAitbar Sajid
- کسی نے دل کے طاق پر جلا کے رکھ دیا ہمیںمگر ہوائے ہجر نے بجھا کے رکھ دیا ہمیںAitbar Sajid
- وہ پہلی جیسی وحشتیں وہ حال ہی نہیں رہاکہ اب تو شوق راحت وصال ہی نہیں رہاAitbar Sajid
- بس اے فلک نشاط دل کا انتقام ہو چکاہنسا تھا جس قدر کبھی زیادہ اس سے رو چکاثاقب لکھنوی
- نظیر جس کی مل سکے وہ اپنا ماجرا نہ تھالکھا نہ تھا پڑھا نہ تھا سنا نہ تھا ہوا نہ تھابیخود موہانی
- نفاق سے خدا بچائے روگ یہ شدید ہےبلائے جان آدمی نشان بزدلی ہے یہUrooj Qadri
- ابھی تمام آئنوں میں ذرہ ذرہ آب ہےیہ کس نے تم سے کہہ دیا کہ زندگی خراب ہےEjaz Obaid
- یہ عطر بیزیاں نہیں نسیم نوبہار کیاڑا کے لائی ہے صبا شمیم زلف یار کیاقبال سہیل