جو اشک دل گداز میں شرر نہ ہو لہو نہ ہو
Faiz Jhanjhanvi (1910–1981)جو اشک دل گداز میں شرر نہ ہو لہو نہ ہو
یہ واقعہ ہے عشق سادہ لوح سرخ رو نہ ہو
ضرورت سحر مجھے نہ خواہش شگفت گل
وہ چاک پیرہن ملے جو حشر تک رفو نہ ہو
جو رہ گزر میں پس گیا ترے خرام ناز سے
وہ ذرۂ خموش بھی جبین آرزو نہ ہو
جسے غبار رہ گزر سمجھ کے تو گزر گیا
خیال کر کبھی وہی مقام جستجو نہ ہو
تو گلشن حیات سے نسیم کی طرح گزر
فریب خار و خس نہ کھا اسیر رنگ و بو نہ ہو
سر غرور جھک گیا جبیں پر آب ہو گئی
وہ حال دل سمجھ گئے ہزار گفتگو نہ ہو
نگاہ خام ہے ابھی جنوں میں پختگی نہیں
اسی میں خیر ہے تری وہ شوخ روبرو نہ ہو
نظارۂ جمال بھی یقیناً اک گناہ ہے
مئے ادب سے فیضؔ اگر نگاہ کا وضو نہ ہو