وفور اشتیاق میں زباں سے کیا نکل گیا

Badr Muneer

وفور اشتیاق میں زباں سے کیا نکل گیا

پھر اس کے بعد بزم کا مزاج ہی بدل گیا

ادھر ادھر کے لوگ تو کریں گے اس کی پرورش

ذرا سا کوئی خوف بھی اگر دلوں میں پل گیا

ہماری رات جگمگا رہی ہے آب و تاب سے

زمیں کا چاند آسماں کے چاند کو نگل گیا

مکان سے مکان تو ہوئے ہیں متصل مگر

خلوص جس کا نام تھا وہ شہر سے نکل گیا

یہ بھید پورے شہر کو دیا ہے میں نے اس لیے

کہ ہوتے ہوتے بات کا پتہ اسے بھی چل گیا

نجانے اس گھڑی تھی کیا دل و نظر کی کیفیت

چھوا جو میں نے پھول کو تو میرا ہاتھ جل گیا