Poetry
Hazaj Musamman Salim
ہزج مثمن سالم- تیری آنکھوں کی کیفیت کو میخانے سے کیا نسبتنگہ کی گردشوں کو دور پیمانے سے کیا نسبتانعام اللہ خاں یقین
- ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئیکرے گا بعد میرے کس توقع پر وفا کوئیانعام اللہ خاں یقین
- چلا آنکھوں سے جب کشتی میں وہ محبوب جاتا ہےکبھی آنکھیں بھر آتی ہیں کبھی جی ڈوب جاتا ہےانعام اللہ خاں یقین
- چمن میں مجھ سے دیوانے کے لے جانے سے کیا حاصلدکھا کر گل جنوں کو شور میں لانے سے کیا حاصلانعام اللہ خاں یقین
- دوانہ مجھ سا کب جیتا ہے کیوں تدبیر کرتے ہیںکوئی دن چلنے پھرنے دیں عبث زنجیر کرتے ہیںانعام اللہ خاں یقین
- شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانےجو دن پڑتے ہیں راتوں کو مجھے تیری بلا جانےانعام اللہ خاں یقین
- کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگےکسو نے دم نہ مارا تیشۂ فولاد کے آگےانعام اللہ خاں یقین
- گریباں پھاڑتے ہیں دیکھ خوبان چمن کیوں کرنہ کیجے چاک ناصح اس ہوا میں پیرہن کیوں کرانعام اللہ خاں یقین
- گئے سب بھول شکوے دیکھ روئے یار کیا کہیےزباں حیرت سے میری ہو گئی بے کار کیا کہیےانعام اللہ خاں یقین
- محبت میں مروت کی حکایت کے سخن خالیکہ جوں فانوس دل کی شمع بن ہے پیرہن خالیانعام اللہ خاں یقین
- یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوےاگر پیوے کوئی ان کو تو جل کر خاک ہو جاوےانعام اللہ خاں یقین
- نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزراہمارے توبہ کر لینے سے پیمانے پہ کیا گزراانعام اللہ خاں یقین
- کوئی تو بات ہے یا رب ہوائے کوے جاناں میںاسیروں کو ذرا تسکین ہو جاتی ہے زنداں میںصفدر مرزا پوری
- گرائیں گی یہ بجلی جس طرف ان کا گزر ہوگامری آہوں میں بھی ان کی نگاہوں کا اثر ہوگاصفدر مرزا پوری
- نیا عالم نظر آتا جو میں محو فغاں ہوتازمیں زیر قدم ہوتی نہ سر پر آسماں ہوتاصفدر مرزا پوری
- محبت ماسوا کی جس نے کی گوری کلوٹی کییقیں کیجو کہ کافر ہو کے اپنی راہ کھوٹی کیقاسم علی خان آفریدی
- ٹھکانا ہے کہیں جائیں کہاں ناچار بیٹھے ہیںاجازت جب نہیں در کی پس دیوار بیٹھے ہیںامداد امام اثر
- جفائیں ہوتی ہیں گھٹتا ہے دم ایسا بھی ہوتا ہےمگر ہم پر جو ہے تیرا ستم ایسا بھی ہوتا ہےامداد امام اثر
- ازل کیا ابتدا حسن و محبت کے ترانے کیابد کیا صرف اک بدلی ہوئی سرخی فسانے کیبیخود موہانی
- وہی عاشق ہے قاتل کا نہ جو شاکی وہاں ہوگاجسے دار جزا سمجھے ہیں دار امتحاں ہوگابیخود موہانی
- نہیں کھلتا کہ آخر یہ طلسماتی تماشا سازمیں کے اس طرف اور آسماں کے اس طرف کیا ہےEjaz Gul
- نہ وہ نالوں کی شورش ہے نہ غل ہے آہ و زاری کاوہ اب پہلا سا ہنگامہ نہیں ہے بے قراری کامیر مہدی مجروح
- بھری محفل میں قصہ درد کا کیسے سناؤں گیبہت روئی ہیں یہ آنکھیں نظر کیسے ملاؤں گیBaharunnisa Bahar
- یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنالبوں پر پیاس رکھنا اور پانی پشت پر رکھناEhtisham ul Haq Siddiqui
- فغان و آہ سے پیدا کیا درد جدائی کوغضب میں جان کو ڈالا جتا کر آشنائی کومرزا مسیتابیگ منتہی
- اگر الٹی بھی ہو اے مشرقیؔ تدبیر سیدھی ہومگر یہ شرط ہے انسان کی تقدیر سیدھی ہوسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیںکسی کے قتل کرنے کو بھبھوکا بن کے بیٹھے ہیںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- تیری محفل میں جتنے اے ستم گر جانے والے ہیںہمیں ہیں ایک ان میں جو ترا غم کھانے والے ہیںسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- کوئی اس سے نہیں کہتا کہ یہ کیا بے وفائی ہےچرا کر دل مرا اب آنکھ بھی اپنی چرائی ہےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- مرا یہ زخم سینہ کا کہیں بھرتا ہے سینے سےلگائے اے صنم جب تک نہ تو سینہ کو سینے سےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- محبت میں اک ایسا بھی مقام آتا ہے مشکل کاجہاں خود دل ہی بن جاتا ہے دشمن ہستئ دل کامنیر بھوپالی
- فروغ مہر سے رندوں کا آخر کام کیا ہوگازمیں پر دور چلتا ہے فلک پر جام کیا ہوگاناطق لکھنوی
- کبھی دامان دل پر داغ مایوسی نہیں آیاادھر وعدہ کیا اس نے ادھر دل کو یقیں آیاناطق لکھنوی
- جسے ڈھونڈا اسے پایا اسے تدبیر کہتے ہیںمگر خود کھو گئے آخر اسے تقدیر کہتے ہیںناطق لکھنوی
- شباب آیا کسی بت پر فدا ہونے کا وقت آیامری دنیا میں بندے کے خدا ہونے کا وقت آیاپنڈت ہری چند اختر
- محبت میں تپاک ظاہری سے کچھ نہیں ہوتاجہاں دل کو لگی ہو دل لگی سے کچھ نہیں ہوتاپنڈت ہری چند اختر
- ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگابس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہوگاپنڈت ہری چند اختر
- کسی کے حسن عالم تاب کی تنویر کے صدقےکسی بد بخت کی صورت بھی پہچانی نہیں جاتیپنڈت ہری چند اختر
- کوئی سمجھائیو یارو مرا محبوب جاتا ہےمرا مقصود جاتا ہے مرا مطلوب جاتا ہےبیاں احسن اللہ خان
- کہا اغیار کا حق میں مرے منظور مت کیجومجھے نزدیک سے اپنے کبھو تو دور مت کیجوبیاں احسن اللہ خان
- خدا اس قوم کو عزت نہیں دیتا زمانے میںجسے قومی بزرگوں کا ادب کرنا نہیں آتااحمق پھپھوندوی
- نئی حد بندیاں ہونے کو ہیں آئین گلشن میںکہو بلبل سے اب انڈے نہ رکھے آشیانے میںاحمق پھپھوندوی
- کہا جب تم سے چارہ درد دل کا ہو نہیں سکتاتو جھنجھلا کر کہا تیرا کلیجا ہو نہیں سکتاحسن بریلوی
- وہ مجھ سے بے خبر ہیں ان کی عادت ہی کچھ ایسی ہےمیں ان کو یاد کرتا ہوں محبت ہی کچھ ایسی ہےحسن بریلوی
- بتوں کے واسطے تو دین و ایماں بیچ ڈالے ہیںیہ وہ معشوق ہیں جو ہم نے کعبے سے نکالے ہیںآغا شاعر قزلباش
- گری گر کر اٹھی پلٹی تو جو کچھ تھا اٹھا لائینظر کیا کیمیا تھی رنگ چہروں سے اڑا لائیآغا شاعر قزلباش
- نہ نکلا منہ سے کچھ نکلی نہ کچھ بھی قلب مضطر کیکسی کے سامنے میں بن گیا تصویر پتھر کیآغا شاعر قزلباش
- یہ کیسے بال کھولے آئے کیوں صورت بنی غم کیتمہارے دشمنوں کو کیا پڑی تھی میرے ماتم کیآغا شاعر قزلباش
- جہاں دیکھو وہاں موجود میرا کرشن پیارا ہےاسی کا سب ہے جلوا جو جہاں میں آشکارا ہےبھارتیندو ہریش چندر
- گلے مجھ کو لگا لو اے مرے دل دار ہولی میںبجھے دل کی لگی بھی تو اے میرے یار ہولی میںبھارتیندو ہریش چندر