یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنا
Ehtisham ul Haq Siddiquiیہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنا
لبوں پر پیاس رکھنا اور پانی پشت پر رکھنا
تمناؤں کے اندھے شہر میں جب مانگنے نکلو
تو چادر صبر کی صدیوں پرانی پشت پر رکھنا
میں اک مزدور ہوں روٹی کی خاطر بوجھ اٹھاتا ہوں
مری قسمت ہے بار حکمرانی پشت پر رکھنا
تجھے بھی اس کہانی میں کہیں کھونا ہے شہزادے
خدا حافظ یہ مہر خاندانی پشت پر رکھنا
ہمیشہ وقت کا دریا اسے رفتار بخشے گا
جسے آتا ہو دریا کی روانی پشت پر رکھنا