Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف- مجھ میں سے مرے جبہ و دستار نفی کررہ جاؤں اگر باقی تو تشریح مری کرEhtisham ul Haq Siddiqui
- کیوں کہتے ہو کیا میری جفا کو نہیں دیکھاآتے ہوئے کہہ کہہ کے قضا کو نہیں دیکھامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- دنیا میں یہی چور بناتا ہے عسس کواللہ کرے قطع کہیں دست ہوس کومرزا مسیتابیگ منتہی
- برہم کن دل یوں کبھی برہم نہ ہوا تھاحیرت اثر ایسا مرا عالم نہ ہوا تھاعلی منظور حیدرآبادی
- مہمانداریعلی منظور حیدرآبادی
- ہوتی ہے طبیعت ہی خدا داد کسی کیالفت میں وفائیں نہیں ایجاد کسی کیمنیر بھوپالی
- کیا خاک کہوں مطلب دل دار کے آگےسو اور سنائے گا وہ اغیار کے آگےنسیم بھرتپوری
- ہم یار کی غیروں پہ نظر دیکھ رہے ہیںگو منہ پہ نہ لائیں گے مگر دیکھ رہے ہیںنسیم بھرتپوری
- بے لوث محبت کی نظر ڈھونڈ رہا ہوںانجام تو ظاہر ہے مگر ڈھونڈ رہا ہوںپنڈت ہری چند اختر
- صورت سے وہ بیزار ہے معلوم نہیں کیوںدل پھر بھی طلب گار ہے معلوم نہیں کیوںپنڈت ہری چند اختر
- کلیوں کا تبسم ہو، کہ تم ہو کہ صبا ہواس رات کے سناٹے میں، کوئی تو صدا ہوپنڈت ہری چند اختر
- اب میری دوگانا کو مرا دھیان ہے کیا خاکانسان کی انا اسے پہچان ہے کیا خاکسعادت یار خان رنگین
- الفت نے تری ہم کو تو رکھا نہ کہیں کادریا کا نہ جنگل کا سما کا نہ زمیں کاواجد علی شاہ
- برباد نہ کر اس کو ذرا ہاتھ پہ دھر لااے باد صبا خاک در یار ادھر لاواجد علی شاہ
- جا بیٹھتے ہو غیروں میں غیرت نہیں آتیاس وقت مری جان مروت نہیں آتیواجد علی شاہ
- سن رکھو اسے دل کا لگانا نہیں اچھادنیا یہ بری ہے یہ زمانہ نہیں اچھاواجد علی شاہ
- اے بے خبری جی کا یہ کیا حال ہے کل سےرونے میں مزا ہے نہ بہلتا ہے غزل سےیوسف ظفر
- ہم گرچہ دل و جان سے بیزار ہوئے ہیںخوش ہیں کہ ترے غم کے سزا وار ہوئے ہیںیوسف ظفر
- بدل دےاحمق پھپھوندوی
- بے وجہ نہیں گرد پریشاں پس محفلآتا ہے کوئی بے سر و ساماں پس محفلمرزا محمد تقی ہوس
- مژدہ یہ صبا اس بت بے باک کو پہنچایہ دود دل سوختہ افلاک کو پہنچامرزا محمد تقی ہوس
- ہرگز نہ مرے محرم ہمراز ہوئے تمآئینے میں اپنے ہی نظر باز ہوئے تممرزا محمد تقی ہوس
- کس طرح ملیں کوئی بہانا نہیں ملتاہم جا نہیں سکتے انہیں آنا نہیں ملتامرزارضا برق
- وحشت میں بھی رخ جانب صحرا نہ کریں گےجب تک کہ تمہیں شہر میں رسوا نہ کریں گےمرزارضا برق
- اس دل میں اگر جلوۂ دل دار نہ ہوتازنہار یہ دل مظہر اسرار نہ ہوتاشاہ آثم
- سن لیوے اگر تو مری دل دار کی آوازہرگز نہ سنے پھر کبھوں مزمار کی آوازشاہ آثم
- ذرہ بھی اگر رنگ خدائی نہیں دیتااندھا ہے تجھے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتاآغا شاعر قزلباش
- عریاں ہی رہے لاش غریب الوطنی میںدھبے مرے عصیاں کے نہ آئیں کفنی میںآغا شاعر قزلباش
- جس نے تجھے خلوت میں بھی تنہا نہیں دیکھااس دیکھنے والے کا کلیجہ نہیں دیکھاآغا شاعر قزلباش
- دل آتش ہجراں سے جلانا نہیں اچھااے شعلہ رخو آگ لگانا نہیں اچھابھارتیندو ہریش چندر
- جب خاک اڑاتا ہوا نیندوں کا سفر ہوپھر کیوں نہ کسی اور ہی دنیا سے گزر ہوFaisal Hashmi
- آنکھوں کا خدا ہی ہے یہ آنسو کی ہے گر موجکشتی بچے کیوں کر جو رہے آٹھ پہر موجغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- اس شوخ سے کیا کیجئے اظہار تمنایہ لوگ کوئی سنتے ہیں گفتار تمناغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- اشک آنکھوں کے اندر نہ رہا ہے نہ رہے گایہ طفل ہے ابتر نہ رہا ہے نہ رہے گاغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- ٹک دیکھیو یہ ابروئے خم دار وہی ہےکشتہ ہوں میں جس کا سو یہ تروار وہی ہےغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- آخر نہ چلی کوئی بھی تدبیر ہماریبن بن کے بگڑنے لگی تقدیر ہماریمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- ہو جاتے ہیں جب اپنے مریضوں سے خفا اورکرتے ہیں وہ ایجاد ستم اور جفا اورUrooj Qadri
- اے دل نہ سن افسانہ کسی شوخ حسیں کاناعاقبت اندیش رہے گا نہ کہیں کااحسن مارہروی
- کیوں چپ ہیں وہ بے بات سمجھ میں نہیں آتایہ رنگ ملاقات سمجھ میں نہیں آتااحسن مارہروی
- نظارہ جو ہوتا ہے لب بام تمہارادنیا میں اچھلتا ہے بہت نام تمہارااحسن مارہروی
- آ جاؤ محبت کے یہ موسم نہ ملیں گےموسم جو پلٹ آئے تو پھر ہم نہ ملیں گےDard Sironji
- اس زلف گرہ گیر کا بل کھانا نیا ہےاس بزم میں شاید کوئی دیوانہ نیا ہےDard Sironji
- نفرت کا ترے دل میں اگر بال رہے گامحروم محبت سے بہر حال رہے گاDard Sironji
- ہونے کو تو خلقت میں تری ہوں گے جہاں اورپر تیرا یہ در چھوڑ کے جاؤں میں کہاں اورPanna Lal Noor
- یوں گزرے چمن سے کہ گلستاں نہیں دیکھاکانٹوں پہ چلے اور بیاباں نہیں دیکھاPanna Lal Noor
- داغوں سے دل و سینہ کے افروختہ جاں ہوںگو میں چمن تازہ ہوں پر وقف خزاں ہوںعاشق اکبرآبادی
- اقرار کسی دن ہے تو انکار کسی دنہو جائے گی اب آپ سے تکرار کسی دنBadr Wasti
- کعبے ہی کا اب قصد یہ گمراہ کرے گاجو تم سے بتاں ہوگا سو اللہ کرے گامیر سوز
- اب میرے لئے آنکھ تیری نم ہے مجھے کیااب ترک مراسم کا تجھے غم ہے مجھے کیاNaeem Saba
- اک خلق جو ہر سمت سے آئی ترے در پرآیا نظر انداز خدائی ترے در پرشرف مجددی