ہونے کو تو خلقت میں تری ہوں گے جہاں اور

Panna Lal Noor

ہونے کو تو خلقت میں تری ہوں گے جہاں اور

پر تیرا یہ در چھوڑ کے جاؤں میں کہاں اور

یہ دیر سے بد ظن وہ گریزاں ہے حرم سے

جیسے کہ حقیقت ہو یہاں اور وہاں اور

رہ جائے نہ پھر شکوۂ بیداد کا امکاں

سینہ جو ہوا چاک تو کٹ جائے زیاں اور

ہم کون ہیں کیا ہیں یہ نہیں جانتے خود بھی

ہم سا بھی کوئی ہوگا بھلا ہیچ مداں اور

تقلید طبیعت کو گوارا نہیں اے نورؔ

چلتا ہوں بناتا ہوا خود اپنے نشاں اور