Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- بصارتوں کو رہ شوق میں گنوا دیکھاتجھے نہ دیکھا مگر ہاں یہ حادثہ دیکھاAabid Jafri
- یہ کس نے عہد فراموش سے صدا دی ہےابھی چراغ جلائے ہی تھے ہوا دی ہےAabid Jafri
- یہی تو ایک شکایت سفر میں رہتی ہےہوائے گرد مسلسل نظر میں رہتی ہےAabid Jafri
- نظر کسی کو وہ موئے کمر نہیں آتابرنگ تار نظر ہے نظر نہیں آتامیر کلو عرش
- نہ گل نہ سرو میان بہار ہوتا ہےہماری خاک سے پیدا چنار ہوتا ہےمیر کلو عرش
- وفور ضعف سے دل یار پر نہیں آتاغم فراق میں جینا نظر نہیں آتامیر کلو عرش
- جب آفتاب ہو طالع سریر حشمت پرتجلی نور خداوند کی نظر آوےمرزا جواں بخت جہاں دار
- جو مر گئے تری چشم سیاہ کے مارےنہ حشر کو بھی اٹھیں گے نگاہ کے مارےمرزا جواں بخت جہاں دار
- اب ان کا غم بھی ہمیں دل کشا سا لگتا ہےیہ اجنبی تو ہمیں آشنا سا لگتا ہےBadr Shamsi
- جواب عرض تمنا تو میرا اپنا تھاتری صدا میں بھی لہجہ تو میرا اپنا تھاBadr Shamsi
- میں اس سے بچھڑا تو پھر کس قدر اکیلی تھیوہ چاندنی جو کبھی میرے ساتھ کھیلی تھیBadr Shamsi
- نظر بچا کے نظر سے گزر گیا وہ شخصمرے وجود میں لیکن اتر گیا وہ شخصBadr Shamsi
- ہمیں سے توڑ کے رشتہ سفر پہ نکلا ہےہمارا سایہ اکیلا سفر پہ نکلا ہےBadr Shamsi
- جو سن سکو تو سنو تم فغاں چراغوں کیلویں چرا لی گئی ہیں یہاں چراغوں کیNadeem Najid
- چراغ و طاق میں بیدار ہو گئیں آنکھیںبہ فیض عشق سمجھدار ہو گئیں آنکھیںNadeem Najid
- ریحان عشق کے پہلو میں کچھ لویں رکھ کرتم عین عشق کی تمثال میں مجھے ڈھالوNadeem Najid
- ہم اپنے اپنے بدن کی حدوں میں گم رہ کربہت حسین بہت ہی مہین جذبوں کوNadeem Najid
- رقیب جوڑ چلا تم ملال کر بیٹھےکدھر خیال گیا کیا خیال کر بیٹھےشاہ اکبر داناپوری
- ہزاروں راز نہاں ہیں دہن کے پردے میںکروڑوں نکتہ ہیں اک اک سخن کے پردے میںشاہ اکبر داناپوری
- سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کوہٹاؤ راہ محبت سے رہنماؤں کواختر انصاری اکبرآبادی
- یہ رنگ و کیف کہاں تھا شباب سے پہلےنظر کچھ اور تھی موج شراب سے پہلےاختر انصاری اکبرآبادی
- زمین و اہل زمیں کے بنانے والے سنترا یہ ڈھنگ ہے کتنا عجیب اور نیارااختر انصاری اکبرآبادی
- کسی کا دل کو رہا انتظار ساری راتفلک کو دیکھا کئے بار بار ساری راتامداد امام اثر
- ابھی چمن ابھی گل بس یہی سماں دیکھاقفس کو بھی مری آنکھوں نے آشیاں دیکھابیخود موہانی
- کہے یہ کون مکاں اپنا لا مکاں اپناازل کے بعد سے ملتا ہے کچھ نشاں اپنابیخود موہانی
- جو آنسوؤں کو نہ چمکائے وہ خوشی کیا ہےنہ آئے موت پہ غالب تو زندگی کیا ہےCharkh Chinioti
- فضا میں کیف فشاں پھر سحاب ہے ساقیپھر اپنے رنگ پہ دور شباب ہے ساقیCharkh Chinioti
- کسے خیال تھا ایسی بھی ساعتیں ہوں گیکہ میرے نام سے بھی تجھ کو وحشتیں ہوں گیEjaz Gul
- گلی سے اپنی اٹھاتا ہے وہ بہانے سےمیں بے خبر رہوں دنیا کے آنے جانے سےEjaz Gul
- یہ گھومتا ہوا آئینہ اپنا ٹھہرا کےذرا دکھا مرا رفتہ تو چرخ پلٹا کےEjaz Gul
- چرا نہ آنکھ کو ساقی کہ بادہ نوش ہوں میںابھی تو فیصلہ ہوتا ہے ایک ساغر پرPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
- ذرا سی بات پہ کٹتے ہیں سر ہماری طرفبھلا اسی میں ہے تو رخ نہ کر ہماری طرفTahir Faraz
- کہیں خلوص کی خوشبو ملے تو رک جاؤںمرے لیے کوئی آنسو کھلے تو رک جاؤںTahir Faraz
- نگاہ یار سوں حاصل ہے مجھ کوں مے نوشیلب خموش نے بخشا ہے اس کے خاموشیداؤد اورنگ آبادی
- طرح طرح کے فسانے سنانے لگتی ہےاڑوں تو میری زمیں چھٹپٹانے لگتی ہےEhtisham ul Haq Siddiqui
- مرے وجود کا آئینہ صاف اسی نے کیااسی کو کرنا تھا آخر معاف اسی نے کیاEhtisham ul Haq Siddiqui
- نصیب اب کے خوشی بے حساب لے آیاچراغ لینے گیا آفتاب لے آیاEhtisham ul Haq Siddiqui
- جو مدتوں میں کسی شوخ کا شباب آیارہین دامن و منت کش حجاب آیامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- فغان و آہ ہے ہر دم پکار رکھتا ہےغضب میں جان دل بے قرار رکھتا ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
- ہمیشہ سیر گل و لالہ زار باقی ہےاگر بغل میں دل داغدار باقی ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
- بیان سن نہ سکا جب کوئی بیاں کی طرحسنایا حال دل زار داستاں کی طرحمنیر بھوپالی
- نہ ابتدا ہوں کسی کی نہ انتہا ہوں میںتعینات کی حد سے گزر گیا ہوں میںمنیر بھوپالی
- نہ قطرہ کم ہے نہ کافی تمام مے خانہجو ظرف جس کا ہے اس کا وہی ہے پیمانہناطق لکھنوی
- دراز اتنا مری قید کا زمانہ تھاکہ وہ چمن نہ رہا جس میں آشیانہ تھاناطق لکھنوی
- یہ میرے یار نے کیا مجھ سے بے وفائی کیملے نہ پھر کبھی جس دن سے آشنائی کیسعادت یار خان رنگین
- پڑا ہے پاؤں میں اب سلسلہ محبت کابرا ہمارا ہوا ہو بھلا محبت کاواجد علی شاہ
- کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھاسوائے اس کے ان آنکھوں نے کیا نہیں دیکھابیاں احسن اللہ خان
- یہ آرزو ہے کہ وہ نامہ بر سے لے کاغذبلا سے پھاڑ کے پھر ہاتھ میں نہ لے کاغذبیاں احسن اللہ خان
- یہ خوب رو نہ چھری نے کٹار رکھتے ہیںنگاہ لطف سے عالم کو مار رکھتے ہیںبیاں احسن اللہ خان
- پکارتا ہوں کہ تم حاصل تمنا ہواگرچہ میری صدا بھی صدا بہ صحرا ہویوسف ظفر