Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan

مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
Poet
Meter
Clear
  1. بصارتوں کو رہ شوق میں گنوا دیکھاتجھے نہ دیکھا مگر ہاں یہ حادثہ دیکھاAabid Jafri
  2. یہ کس نے عہد فراموش سے صدا دی ہےابھی چراغ جلائے ہی تھے ہوا دی ہےAabid Jafri
  3. یہی تو ایک شکایت سفر میں رہتی ہےہوائے گرد مسلسل نظر میں رہتی ہےAabid Jafri
  4. نظر کسی کو وہ موئے کمر نہیں آتابرنگ تار نظر ہے نظر نہیں آتامیر کلو عرش
  5. نہ گل نہ سرو میان بہار ہوتا ہےہماری خاک سے پیدا چنار ہوتا ہےمیر کلو عرش
  6. وفور ضعف سے دل یار پر نہیں آتاغم فراق میں جینا نظر نہیں آتامیر کلو عرش
  7. جب آفتاب ہو طالع سریر حشمت پرتجلی نور خداوند کی نظر آوےمرزا جواں بخت جہاں دار
  8. جو مر گئے تری چشم سیاہ کے مارےنہ حشر کو بھی اٹھیں گے نگاہ کے مارےمرزا جواں بخت جہاں دار
  9. اب ان کا غم بھی ہمیں دل کشا سا لگتا ہےیہ اجنبی تو ہمیں آشنا سا لگتا ہےBadr Shamsi
  10. جواب عرض تمنا تو میرا اپنا تھاتری صدا میں بھی لہجہ تو میرا اپنا تھاBadr Shamsi
  11. میں اس سے بچھڑا تو پھر کس قدر اکیلی تھیوہ چاندنی جو کبھی میرے ساتھ کھیلی تھیBadr Shamsi
  12. نظر بچا کے نظر سے گزر گیا وہ شخصمرے وجود میں لیکن اتر گیا وہ شخصBadr Shamsi
  13. ہمیں سے توڑ کے رشتہ سفر پہ نکلا ہےہمارا سایہ اکیلا سفر پہ نکلا ہےBadr Shamsi
  14. جو سن سکو تو سنو تم فغاں چراغوں کیلویں چرا لی گئی ہیں یہاں چراغوں کیNadeem Najid
  15. چراغ و طاق میں بیدار ہو گئیں آنکھیںبہ فیض عشق سمجھدار ہو گئیں آنکھیںNadeem Najid
  16. ریحان عشق کے پہلو میں کچھ لویں رکھ کرتم عین عشق کی تمثال میں مجھے ڈھالوNadeem Najid
  17. ہم اپنے اپنے بدن کی حدوں میں گم رہ کربہت حسین بہت ہی مہین جذبوں کوNadeem Najid
  18. رقیب جوڑ چلا تم ملال کر بیٹھےکدھر خیال گیا کیا خیال کر بیٹھےشاہ اکبر داناپوری
  19. ہزاروں راز نہاں ہیں دہن کے پردے میںکروڑوں نکتہ ہیں اک اک سخن کے پردے میںشاہ اکبر داناپوری
  20. سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کوہٹاؤ راہ محبت سے رہنماؤں کواختر انصاری اکبرآبادی
  21. یہ رنگ و کیف کہاں تھا شباب سے پہلےنظر کچھ اور تھی موج شراب سے پہلےاختر انصاری اکبرآبادی
  22. زمین و اہل زمیں کے بنانے والے سنترا یہ ڈھنگ ہے کتنا عجیب اور نیارااختر انصاری اکبرآبادی
  23. کسی کا دل کو رہا انتظار ساری راتفلک کو دیکھا کئے بار بار ساری راتامداد امام اثر
  24. ابھی چمن ابھی گل بس یہی سماں دیکھاقفس کو بھی مری آنکھوں نے آشیاں دیکھابیخود موہانی
  25. کہے یہ کون مکاں اپنا لا مکاں اپناازل کے بعد سے ملتا ہے کچھ نشاں اپنابیخود موہانی
  26. جو آنسوؤں کو نہ چمکائے وہ خوشی کیا ہےنہ آئے موت پہ غالب تو زندگی کیا ہےCharkh Chinioti
  27. فضا میں کیف فشاں پھر سحاب ہے ساقیپھر اپنے رنگ پہ دور شباب ہے ساقیCharkh Chinioti
  28. کسے خیال تھا ایسی بھی ساعتیں ہوں گیکہ میرے نام سے بھی تجھ کو وحشتیں ہوں گیEjaz Gul
  29. گلی سے اپنی اٹھاتا ہے وہ بہانے سےمیں بے خبر رہوں دنیا کے آنے جانے سےEjaz Gul
  30. یہ گھومتا ہوا آئینہ اپنا ٹھہرا کےذرا دکھا مرا رفتہ تو چرخ پلٹا کےEjaz Gul
  31. چرا نہ آنکھ کو ساقی کہ بادہ نوش ہوں میںابھی تو فیصلہ ہوتا ہے ایک ساغر پرPandit Jagmohan Nath Raina Shauq
  32. ذرا سی بات پہ کٹتے ہیں سر ہماری طرفبھلا اسی میں ہے تو رخ نہ کر ہماری طرفTahir Faraz
  33. کہیں خلوص کی خوشبو ملے تو رک جاؤںمرے لیے کوئی آنسو کھلے تو رک جاؤںTahir Faraz
  34. نگاہ یار سوں حاصل ہے مجھ کوں مے نوشیلب خموش نے بخشا ہے اس کے خاموشیداؤد اورنگ آبادی
  35. طرح طرح کے فسانے سنانے لگتی ہےاڑوں تو میری زمیں چھٹپٹانے لگتی ہےEhtisham ul Haq Siddiqui
  36. مرے وجود کا آئینہ صاف اسی نے کیااسی کو کرنا تھا آخر معاف اسی نے کیاEhtisham ul Haq Siddiqui
  37. نصیب اب کے خوشی بے حساب لے آیاچراغ لینے گیا آفتاب لے آیاEhtisham ul Haq Siddiqui
  38. جو مدتوں میں کسی شوخ کا شباب آیارہین دامن و منت کش حجاب آیامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  39. فغان و آہ ہے ہر دم پکار رکھتا ہےغضب میں جان دل بے قرار رکھتا ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
  40. ہمیشہ سیر گل و لالہ زار باقی ہےاگر بغل میں دل داغدار باقی ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
  41. بیان سن نہ سکا جب کوئی بیاں کی طرحسنایا حال دل زار داستاں کی طرحمنیر بھوپالی
  42. نہ ابتدا ہوں کسی کی نہ انتہا ہوں میںتعینات کی حد سے گزر گیا ہوں میںمنیر بھوپالی
  43. نہ قطرہ کم ہے نہ کافی تمام مے خانہجو ظرف جس کا ہے اس کا وہی ہے پیمانہناطق لکھنوی
  44. دراز اتنا مری قید کا زمانہ تھاکہ وہ چمن نہ رہا جس میں آشیانہ تھاناطق لکھنوی
  45. یہ میرے یار نے کیا مجھ سے بے وفائی کیملے نہ پھر کبھی جس دن سے آشنائی کیسعادت یار خان رنگین
  46. پڑا ہے پاؤں میں اب سلسلہ محبت کابرا ہمارا ہوا ہو بھلا محبت کاواجد علی شاہ
  47. کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھاسوائے اس کے ان آنکھوں نے کیا نہیں دیکھابیاں احسن اللہ خان
  48. یہ آرزو ہے کہ وہ نامہ بر سے لے کاغذبلا سے پھاڑ کے پھر ہاتھ میں نہ لے کاغذبیاں احسن اللہ خان
  49. یہ خوب رو نہ چھری نے کٹار رکھتے ہیںنگاہ لطف سے عالم کو مار رکھتے ہیںبیاں احسن اللہ خان
  50. پکارتا ہوں کہ تم حاصل تمنا ہواگرچہ میری صدا بھی صدا بہ صحرا ہویوسف ظفر