جو آنسوؤں کو نہ چمکائے وہ خوشی کیا ہے
Charkh Chiniotiجو آنسوؤں کو نہ چمکائے وہ خوشی کیا ہے
نہ آئے موت پہ غالب تو زندگی کیا ہے
ہمیں خبر ہے نہ اپنی نہ اہل دنیا کی
کوئی بتائے یہ انداز بیخودی کیا ہے
میں ساتھ دیتا ہوں یاروں کا حد منزل تک
میں جانتا نہیں دستور رہروی کیا ہے
ترے خیال میں دن رات مست رہتا ہوں
یہ بندگی جو نہیں ہے تو بندگی کیا ہے
ترے کرم سے میسر ہے دولت کونین
ترا کرم ہے جبھی تک مجھے کمی کیا ہے
نئے پرانے نشیمن سبھی جلا کر اب
نگاہ برق کھڑی دور تاکتی کیا ہے
کسی کی چشم کرم آپ پر نہیں تو کیوں
یہ خود سے پوچھیے کردار میں کمی کیا ہے
نہ آئی جاگتی آنکھوں کے دائرے میں کبھی
یہ بد نصیب کا اک خواب ہے خوشی کیا ہے
جو بات کہتا ہوں کرتے ہیں اس پہ حرف زنی
یہ دوستی ہے تو انداز دشمنی کیا ہے
قدم قدم پہ کیے چرخؔ زندگی نے مذاق
سمجھ میں آ نہ سکا قصد زندگی کیا ہے