طرح طرح کے فسانے سنانے لگتی ہے
Ehtisham ul Haq Siddiquiطرح طرح کے فسانے سنانے لگتی ہے
اڑوں تو میری زمیں چھٹپٹانے لگتی ہے
غرور نسل ہے یک لخت تو نہ جائے گا
کہ لگتے لگتے یہ دولت ٹھکانے لگتی ہے
نہ جانے کیسی ہوا ہے کہ رات ہوتے ہی
بدن میں آ کے مرے خاک اڑانے لگتی ہے
میں اپنی پیاس پہ جب صبر باندھ دیتا ہوں
تو جو ندی بھی ملے آزمانے لگتی ہے
جہاں جہاں بھی میں اس سے گریز کرتا ہوں
وہیں وہیں سے وہ آواز آنے لگتی ہے
خیال تک بھی اگر اس کا نام آ جائے
وہ ہاتھ چپکے سے میرا دبانے لگتی ہے
وہ ایک خوشبو ہے آتی نہیں نظر لیکن
قریب آتے ہی خود کو بتانے لگتی ہے