چرا نہ آنکھ کو ساقی کہ بادہ نوش ہوں میں

Pandit Jagmohan Nath Raina Shauq

چرا نہ آنکھ کو ساقی کہ بادہ نوش ہوں میں

ابھی تو فیصلہ ہوتا ہے ایک ساغر پر

مریض عشق کی حالت کبھی نہ سنبھلے گی

مجھے تو چھوڑ دے اے چارہ گر مقدر پر

ہمارے نالے بھی تھک تھک کے اب تو بیٹھ رہے

گئے وہ دن کہ اٹھاتے تھے آسماں سر پر

ہمارے مے کدہ کو چھوڑ کر نہ جا زاہد

ملے گا قطرہ نہ کمبخت حوض کوثر پر

گلہ نہ ہم نے کیا شوقؔ اس ستم گر سے

بلائیں سب وہ اٹھائیں جو آ پڑیں سر پر