نصیب اب کے خوشی بے حساب لے آیا

Ehtisham ul Haq Siddiqui

نصیب اب کے خوشی بے حساب لے آیا

چراغ لینے گیا آفتاب لے آیا

ابھی جلا کے اٹھا ہوں پرانے خوابوں کو

وہ میرے واسطے پھر تازہ خواب لے آیا

پھر آج بھاؤ سمندر کا آسمان پہ تھا

پھر آج اپنے لئے میں سراب لے آیا

فسردہ دیکھ کے اس کو بہت پشیماں ہوں

میں ریگزار میں کیوں اک گلاب لے آیا

تجھے تو ہاں یا نہیں میں جواب دینا تھا

جواب میں تو مکمل کتاب لے آیا

ابھی چلا ہی تھا دل اک گناہ کرنے کو

کہ ذہن جا کے خیال عذاب لے آیا