اب ان کا غم بھی ہمیں دل کشا سا لگتا ہے

Badr Shamsi

اب ان کا غم بھی ہمیں دل کشا سا لگتا ہے

یہ اجنبی تو ہمیں آشنا سا لگتا ہے

فریب خوردۂ رسم وفا سا لگتا ہے

یہ زخم دل کہ جو ہنستا ہوا سا لگتا ہے

خود اپنے دل سے تراشا ہے جو صنم میں نے

خدا نہیں ہے وہ لیکن خدا سا لگتا ہے

ملا ہے جس کو مری بندگی کا حسن خلوص

وہ نقش سجدہ ترے نقش پا سا لگتا ہے

کبھی کبھی تری یادوں کی انجمن میں یہ دل

خود اپنے آپ سے روٹھا ہوا سا لگتا ہے

رخ حیات یہ ہلکا سا اک تبسم بھی

غم حیات کا مارا ہوا سا لگتا ہے

بدل گئی ہے یہ کس کی نظر خدا جانے

رخ حیات بدلتا ہوا سا لگتا ہے

یہ داغ دل ہیں کہ اے بدرؔ حسرتوں کے صنم

خدا کا گھر ہے مگر بت کدہ سا لگتا ہے