یہ میرے یار نے کیا مجھ سے بے وفائی کی
سعادت یار خان رنگینیہ میرے یار نے کیا مجھ سے بے وفائی کی
ملے نہ پھر کبھی جس دن سے آشنائی کی
اب اس کے عشق نے کیا کم کیا تھا مجھ سے سلوک
ستایا تو نے خدا ہت تری خدائی کی
میں تیرے واری نصیحت نہ کر مجھے باجی
تجھے بھی یاد ہے بکواس سب خدائی کی
پھنسا دیا مجھے رنگیںؔ کے دام میں ناحق
کٹے الٰہی کرے ناک میرے دائی کی