جواب عرض تمنا تو میرا اپنا تھا

Badr Shamsi

جواب عرض تمنا تو میرا اپنا تھا

تری صدا میں بھی لہجہ تو میرا اپنا تھا

ہوا کریں جو سمندر تھے اس کے قدموں میں

کہ میری پیاس پہ قبضہ تو میرا اپنا تھا

وہ کیوں نہ سب سے زیادہ مجھے عطا کرتا

کہ زخم بانٹنے والا تو میرا اپنا تھا

بجا کہ تیری امانت تھی میری آتش دل

مگر اس آگ میں جلنا تو میرا اپنا تھا

اب آئنے میں جو لگتا ہے اجنبی مجھ کو

میں سوچتا ہوں وہ چہرا تو میرا اپنا تھا

اتر گیا مرے دل میں تو کیا تعجب ہے

کہ اس کے ہاتھ میں تیشہ تو میرا اپنا تھا

قدم قدم پہ لڑا بدرؔ جو اندھیروں سے

وہ زخم زخم اجالا تو میرا اپنا تھا