مرے وجود کا آئینہ صاف اسی نے کیا
Ehtisham ul Haq Siddiquiمرے وجود کا آئینہ صاف اسی نے کیا
اسی کو کرنا تھا آخر معاف اسی نے کیا
یہ میرا گوشۂ دل پاک اسی کے دم سے ہے
کہ رات دن کا یہاں اعتکاف اسی نے کیا
بنا بتائے وہ دل میں سما بھی سکتا ہے
اتر کے دل میں یہ سب انکشاف اسی نے کیا
میں اس کے عہد پہ اب بھی ہوں منتظر اس کا
خود اپنے عہد سے بھی انحراف اسی نے کیا
ورق ورق میں عبارت ہی پڑھتا رہتا تھا
میں لفظ بیں تھا مجھے موشگاف اسی نے کیا