Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. آج مائل بہ کرم اک بت رعنائی ہےساری دنیا مرے دامن میں سمٹ آئی ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  2. آؤ تقدیر کو تدبیر بنا کر دیکھیںان اندھیروں کو اجالوں سے ملا کر دیکھیںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  3. درد سمجھے نہ کوئی درد کا درماں سمجھےلوگ وحشت کو علاج غم دوراں سمجھےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  4. کرب میں پیار کے نغمات سنائیں کیسےغم حقیقت سے حقیقت کو چھپائیں کیسےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  5. دست نازک سے جو پردے کو سنوارا تم نےمیں یہ سمجھا کہ نوازش سے پکارا تم نےJalee Amrohvi (1922–2013)
  6. ہم بھی سنتے جو ترے حسن کے چرچے ہوتےکاش اس وقت تری بزم میں بیٹھے ہوتےBaldev singh Hamdam (b. 1922)
  7. بھول جانا تھا تو پھر اپنا بنایا کیوں تھاتم نے الفت کا یقیں مجھ کو دلایا کیوں تھاSaba Afghani (1922–1976)
  8. حفظ گل کے لئے رکھتے جو نگہباں کچھ اورہو گیا پھولوں سے محروم گلستاں کچھ اورEhsan Ali Khan (1922–1991)
  9. کب تک اس پیاس کے صحرا میں جھلستے جائیںاب یہ بادل جو اٹھے ہیں تو برستے جائیںUmmeed Fazli (1923–2005)
  10. ناز کر ناز کہ یہ ناز جدا ہے سب سےمیرا لہجہ مری آواز جدا ہے سب سےUmmeed Fazli (1923–2005)
  11. آسمانوں سے فرشتے جو اتارے جائیںوہ بھی اس دور میں سچ بولیں تو مارے جائیںUmmeed Fazli (1923–2005)
  12. پھول جو صحن بیاباں میں جواں ہوتا ہےعظمت فصل بہاراں کا نشاں ہوتا ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
  13. نور ہی نور ہے ظلمات کے آئینے میںرقص کرتی ہے سحر رات کے آئینے میںD. Raj Kanwal (b. 1923)
  14. ہم کو چھیڑا تو مچل جائیں گے ارماں کی طرحہم پریشاں ہیں تری زلف پریشاں کی طرحD. Raj Kanwal (b. 1923)
  15. رسن و دار سے یا کوئے بتاں سے اٹھےفتنہ ہر حال میں فتنہ ہے جہاں سے اٹھےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  16. کون جانے کہ تخیل میں ہیں پیکر کتنےبت تراشے گا ابھی اور یہ آذر کتنےChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
  17. وائے قسمت کہ قریب اس نے نہ آنا چاہاعمر بھر ہم نے جسے اپنا بنانا چاہاQadir Siddiqi (b. 1923)
  18. ہم پھرے شہر میں آوارہ و رسوا برسوںدل کے مندر میں ترے وہم کو پوجا برسوںQadir Siddiqi (b. 1923)
  19. رات گزری تو یقیں تھا کہ سویرا ہوگاکیا خبر تھی کہ وہی گھور اندھیرا ہوگاVafa Malikpuri (1923–2003)
  20. جب اسے گردش ایام نے مارا ہوگااے مصیبت میں کسے اس نے پکارا ہوگاOm Prakash Laghar (b. 1924)
  21. چھیڑتی ہے وہ نظر اب مرے دل کو ایسےکسی جراح کی پھوڑے یہ جراحت جیسےOm Prakash Laghar (b. 1924)
  22. تیری تصویر کو دھندلا نہیں ہونے دیں گےزندگی ہم تجھے رسوا نہیں ہونے دیں گےGauhar Usmani (1924–2004)
  23. خواب تیرے ہیں یہ خوابوں کا نگر تیرا ہےذکر انفاس میں ہر شام و سحر تیرا ہےGauhar Usmani (1924–2004)
  24. دل میں رہنا کبھی خوابوں کے نگر میں رہناتم جہاں رہنا محبت کے سفر میں رہناGauhar Usmani (1924–2004)
  25. رخ سے فطرت کے حجابات اٹھا دیتا ہےآئنہ ٹوٹ کے پتھر کو صدا دیتا ہےGauhar Usmani (1924–2004)
  26. بے وفا وعدہ شکن اور ستم گر نکلامیں نے سمجھا تھا جسے پھول وہ پتھر نکلاUmar Quraishi (1924–2010)
  27. یہ مرے جذب محبت کی پذیرائی ہےوہ بھی کہنے لگے دیوانہ ہے سودائی ہےUmar Quraishi (1924–2010)
  28. میرے ان کاکل برہم کی حکایت مت پوچھآہ اس نالۂ پیہم کی حقیقت مت پوچھIffat Zeba Kakorvi (1924–2002)
  29. اولیں چاند نے کیا بات سجھائی مجھ کویاد آئی تری انگشت حنائی مجھ کوNasir Kazmi (1925–1972)
  30. تیری زلفوں کے بکھرنے کا سبب ہے کوئیآنکھ کہتی ہے ترے دل میں طلب ہے کوئیNasir Kazmi (1925–1972)
  31. کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھےرات بھر چاند کے ہم راہ پھرا کرتے تھےNasir Kazmi (1925–1972)
  32. یوں تو ہر شخص اکیلا ہے بھری دنیا میںپھر بھی ہر دل کے مقدر میں نہیں تنہائیNasir Kazmi (1925–1972)
  33. آئنہ دیکھنا انگشت بدنداں رہنااس نے تو ہم کو بھی سکھلا دیا حیراں رہناOm Krishn Rahat (b. 1925)
  34. غم و اندوہ کا سینے میں سمندر لے کرجئے جاتا ہوں مگر ہاتھ میں ساغر لے کرOm Krishn Rahat (b. 1925)
  35. گھٹ کے رہ جاتی ہیں سینے میں صدائیں کتنیجم گئی ہیں میرے ہونٹوں پہ دعائیں کتنیOm Krishn Rahat (b. 1925)
  36. لوگ سمجھے تھے چھپا رکھا ہے دھن گٹھری میںہم نے تو رکھی تھی ماتھے کی شکن گٹھری میںOm Krishn Rahat (b. 1925)
  37. اتنا سناٹا ہے بستی میں کہ ڈر جائے گاچاند نکلا بھی تو چپ چاپ گزر جائے گاQaisarul Jafri (1926–2005)
  38. تم سے دو حرف کا خط بھی نہیں لکھا جاتاجاؤ اب یوں بھی تعلق نہیں توڑا جاتاQaisarul Jafri (1926–2005)
  39. چاندنی تھا کہ غزل تھا کہ صبا تھا کیا تھامیں نے اک بار ترا نام سنا تھا کیا تھاQaisarul Jafri (1926–2005)
  40. دشت تنہائی میں کل رات ہوا کیسی تھیدیر تک ٹوٹتے لمحوں کی صدا کیسی تھیQaisarul Jafri (1926–2005)
  41. دن کی بے درد تھکن چہرے پہ لے کر مت جابام و در جاگ رہے ہوں گے ابھی گھر مت جاQaisarul Jafri (1926–2005)
  42. ساری دنیا کے تعلق سے جو سوچا جاتاآدمی اتنے قبیلوں میں نہ بانٹا جاتاQaisarul Jafri (1926–2005)
  43. گھر بسا کر بھی مسافر کے مسافر ٹھہرےلوگ دروازوں سے نکلے کہ مہاجر ٹھہرےQaisarul Jafri (1926–2005)
  44. منتشر ذہن کی سوچوں کو اکٹھا کر دوتم جو آ جاؤ تو شاید مجھے تنہا کر دوQaisarul Jafri (1926–2005)
  45. ہم نے لکھے تھے ہواؤں میں فسانے اپنےاڑ گئے ایک ہی جھونکے میں زمانے اپنےQaisarul Jafri (1926–2005)
  46. یوں بڑی دیر سے پیمانہ لیے بیٹھا ہوںکوئی دیکھے تو یہ سمجھے کہ پئے بیٹھا ہوںQaisarul Jafri (1926–2005)
  47. در و دیوار پہ ہجرت کے نشاں دیکھ آئیںآؤ ہم اپنے بزرگوں کے مکاں دیکھ آئیںQaisarul Jafri (1926–2005)
  48. زندگی تو مجھے کس موڑ پہ لے آئی ہےخواب کھلتے تھے جہاں برف وہاں چھائی ہےQaisarul Jafri (1926–2005)
  49. میرے ماضی کا کوئی زخم مرے پاس نہیںجس سے جو چیز ملی تھی اسے پھیر آیا ہوںQaisarul Jafri (1926–2005)
  50. راستا دیکھ کے چل ورنہ یہ دن ایسے ہیںگونگے پتھر بھی سوالات کریں گے تجھ سےQaisarul Jafri (1926–2005)