غم و اندوہ کا سینے میں سمندر لے کر
Om Krishn Rahat (b. 1925)غم و اندوہ کا سینے میں سمندر لے کر
جئے جاتا ہوں مگر ہاتھ میں ساغر لے کر
خود فریبی کے اندھیرے میں اتر جاتا ہوں
خود کو جب ڈھونڈتا ہوں ہاتھ میں پتھر لے کر
سامنے آئے گا وہ جب بھی پکاروں اس کو
اپنے چہرے پہ مگر نور کی چادر لے کر
ایک الھڑ سی کوئی یاد بھلے وقتوں کی
دل کے پنگھٹ پہ چلی آتی ہے گاگر لے کر
وقت بھی ہم سے الجھ پڑتا ہے ہم بھی اس کو
روز للکارتے ہیں ہاتھ میں ساغر لے کر
ہم فسادوں میں بھی ہمسائے سے مل آتے ہیں
کبھی پتھر کبھی بھالا کبھی خنجر لے کر
داور حشر سے ہم ملنے چلیں گے راحتؔ
طائر فکر کا ٹوٹا ہوا اک پر لے کر