یوں تو ہر شخص اکیلا ہے بھری دنیا میں

Nasir Kazmi (1925–1972)

یوں تو ہر شخص اکیلا ہے بھری دنیا میں

پھر بھی ہر دل کے مقدر میں نہیں تنہائی