پھول جو صحن بیاباں میں جواں ہوتا ہے
D. Raj Kanwal (b. 1923)پھول جو صحن بیاباں میں جواں ہوتا ہے
عظمت فصل بہاراں کا نشاں ہوتا ہے
قطرۂ اشک کو سمجھو نہ ذرا سا پانی
قطرۂ اشک غم دل کی زباں ہوتا ہے
ہیں یہ بے کار سبھی دیر و حرم کے جھگڑے
لامکاں ہو جو کہیں اس کا مکان ہوتا ہے
جب بھی آتی ہے کبھی فصل بہاراں اے دوست
آس پاس اس کے کہیں دور خزاں ہوتا ہے
جانے کیا سوچ کے ہو جاتا ہوں میں بھی غمگیں
جب بھی محفل میں کبھی ذکر بتاں ہوتا ہے
آج کے دور میں انسان نہ ڈھونڈو یارو
آج کے دور میں انسان کہاں ہوتا ہے
اپنی تہذیب کی یہ آخری منزل ہے کنولؔ
ریگ زاروں پہ بہاروں کا گماں ہوتا ہے