Poetry
Ramal Musamman Mahzuf
رمل مثمن محذوف- کھل کے ملنے کا سلیقہ آپ کو آتا نہیںاور میرے پاس کوئی چور دروازہ نہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
- کیا بتاؤں کیسا خود کو در بدر میں نے کیاعمر بھر کس کس کے حصے کا سفر میں نے کیاWaseem Barelvi (b. 1940)
- گمشدہ تنہائیوں کی رازداں اچھی تو ہومیں یہاں اچھا نہیں ہوں تم وہاں اچھی تو ہوKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- وہ نہیں اس کی مگر جادوگری موجود ہےاک سحر آلود مجھ میں بے خودی موجود ہےzafar iqbal zafar (b. 1940)
- میں بدلتے موسموں کے رنگ سے بیزار ہوںہر نئی رت سے چمن میں برسر پیکار ہوںSaba Naqvi (b. 1940)
- چاندنی شب بھر ٹہلتی چھت پہ تنہا رہ گئیپیار کی ہر یاد رنگیں بے سہارا ہو گئیJafar Sahni (1941–2018)
- زندگی اک زہر تھی اس زہر کو پینا پڑامسکرا کر دوستوں کے درمیاں جینا پڑاBadnam Nazar (1941–2023)
- کیا ہوا جو دشمنوں کے درمیاں خنجر چلےدوستوں میں بھی تو اکثر طنز کے پتھر چلےBadnam Nazar (1941–2023)
- گرتی دیواروں پہ کچھ پرچھائیاں رہنے لگیںگھر کو ویراں دیکھ کر تنہائیاں رہنے لگیںBadnam Nazar (1941–2023)
- گم شدہ موسم کا آنکھوں میں کوئی سپنا سا تھابادلوں کے اڑتے ٹکڑوں میں ترا چہرا سا تھاBadnam Nazar (1941–2023)
- آج تک بہکا نہیں باہر سے دیوانہ تراحوصلے میری نگاہوں کے ہیں پیمانہ تراLutf-ur-rahman (b. 1941)
- جب سے تم نے دے دیا ہے دل کا نذرانہ مجھےکہہ رہی ہے ساری دنیا تیرا دیوانہ مجھےZafar Mujeebi (b. 1941)
- لفظ و معنی کی یہ سب جھوٹی نمائش چھوڑ دےیوں ہمہ دانی کی ناداں اپنی خواہش چھوڑ دےHafeez Betab (b. 1941)
- حوصلے جینے کے دل کو بے بسی دیتی رہیآرزو پژمردگی کو تازگی دیتی رہیZaheer Ahmad Zaheer (b. 1941)
- رات بھر فرقت کے سائے دل کو دہلاتے رہےذہن میں کیا کیا خیال آتے رہے جاتے رہےZaheer Ahmad Zaheer (b. 1941)
- آنسوؤں کو اپنی پلکوں پر سجا کر لے گیامیں بھی اس محفل میں کچھ شمعیں جلا کر لے گیاVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- تیری ہی تصویر میں تیرا بدل ڈھونڈا گیاکتنی آسانی سے اک مشکل کا حل ڈھونڈا گیاVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- ہو گئے رخصت مرے ارمان ایسا کچھ نہیںتیرا غم دل میں نہ ہو مہمان ایسا کچھ نہیںVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- یاد آئی جب مجھے فرحتؔ سے چھوٹی تھی بہنمیرے دشمن کی بہن نے مجھ کو راکھی باندھ دیEhsan Saqib (b. 1943)
- دوریاں ساری سمٹ کر رہ گئیں ایسا لگاموند لی جب آنکھ تو سینے سے کوئی آ لگاQamar Iqbal (1944–1988)
- کیسے کہہ دوں مجھ کو تنہائی میں یاد آتا ہے کونراز کی یہ بات ہے اور راز بتلاتا ہے کونZafar Sambhali (b. 1944)
- کل جہاں دیوار تھی ہے آج اک در دیکھیےکیا سمائی تھی بھلا دیوانے کے سر دیکھیےJaved Akhtar (b. 1945)
- روبرو بت کے دعا کی بھول ہو جائے تو پھراور پھر وہ ہی دعا مقبول ہو جائے تو پھرYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- جستجو کے پاؤں اب آرام سا پانے لگےاب ہمارے پاس بھی کچھ راستے آنے لگےChandrabhan Khayal (b. 1946)
- چلچلاتی دھوپ سر پر اور تنہا آدمیآہ یہ خاموش پتھر اور تنہا آدمیChandrabhan Khayal (b. 1946)
- زندگانی رنج اور غم کے سوا کچھ بھی نہیںاف کہ ہر دم سوگ و ماتم کے سوا کچھ بھی نہیںChandrabhan Khayal (b. 1946)
- سرد سناٹوں کی سب سرگوشیاں لے جاؤں گامیں جہاں بھی جاؤں گا دل کی زباں لے جاؤں گاChandrabhan Khayal (b. 1946)
- صرف اک حد نظر کو آسماں سمجھا تھا میںآسمانوں کی حقیقت کو کہاں سمجھا تھا میںChandrabhan Khayal (b. 1946)
- دل پہاڑوں پر چلا جائے کہ میدانوں میں ہوبھیڑ میں لوگوں کی یا خالی شبستانوں میں ہوChandrabhan Khayal (b. 1946)
- کھوکھلے سینوں میں بہتا ہے مسیحائی عذابخیر و شر کے مسئلے سب آج بھی ہم دوش ہیںChandrabhan Khayal (b. 1946)
- اس طرح سوئی ہیں آنکھیں جاگتے سپنوں کے ساتھخواہشیں لپٹی ہوں جیسے بند دروازوں کے ساتھIftikhar Naseem (1946–2011)
- اس کے چہرے کی چمک کے سامنے سادہ لگاآسماں پہ چاند پورا تھا مگر آدھا لگاIftikhar Naseem (1946–2011)
- بن گیا ہے جسم گزرے قافلوں کی گرد ساکتنا ویراں کر گیا مجھ کو مرا ہم درد ساIftikhar Naseem (1946–2011)
- پھول گالوں کو تو آنکھوں کو کنول کہتا رہاجنگ تھی باہر گلی میں میں غزل کہتا رہاIftikhar Naseem (1946–2011)
- تیری آنکھوں کی چمک بس اور اک پل ہے ابھیدیکھ لے اس چاند کو کچھ دور بادل ہے ابھیIftikhar Naseem (1946–2011)
- جانے والوں کے لیے تو اور کیا لے جائے گادیکھ لے دنیا جہاں تک راستہ لے جائے گاIftikhar Naseem (1946–2011)
- چاند پھر تاروں کی اجلی ریز گاری دے گیارات کو یہ بھیک کیسی خود بھکاری دے گیاIftikhar Naseem (1946–2011)
- رات کو باہر اکیلے گھومنا اچھا نہیںچھوڑ آؤ اس کو گھر تک راستا اچھا نہیںIftikhar Naseem (1946–2011)
- مشعل امید تھامو رہ نما جیسا بھی ہےاب تو چلنا ہی پڑے گا راستا جیسا بھی ہےIftikhar Naseem (1946–2011)
- نام بھی جس کا زباں پر تھا دعاؤں کی طرحوہ مجھے ملتا رہا نا آشناؤں کی طرحIftikhar Naseem (1946–2011)
- طاق پر جزدان میں لپٹی دعائیں رہ گئیںچل دیئے بیٹے سفر پر گھر میں مائیں رہ گئیںIftikhar Naseem (1946–2011)
- کوئی بادل میرے تپتے جسم پر برسا نہیںجل رہا ہوں جانے کب سے جسم کی گرمی کے ساتھIftikhar Naseem (1946–2011)
- جب ادھورے چاند کی پرچھائیں پانی پر پڑیروشنی اک نامکمل سی کہانی پر پڑیZafar Sahbai (b. 1946)
- آ گئی ساون کی رت کالی گھٹا چھانے لگیپھر کسی کی یاد میرے دل کو تڑپانے لگیJafar Malihabadi (b. 1946)
- ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیاوہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیاMohsin Naqvi (1947–1996)
- تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گادور تک تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گاIftikhar Imam Siddiqi (b. 1947)
- وہ نہیں ملتا مجھے اس کا گلا اپنی جگہاس کے میرے درمیاں کا فاصلہ اپنی جگہIftikhar Imam Siddiqi (b. 1947)
- مشکلوں میں پڑ گئے اپنا خدا کہہ کر تجھےتو ہی کہہ دے ہم پکاریں اور کیا کہہ کر تجھےVed Prakash Malik Sarshar (1947–2004)
- بزم تنہائی میں عکس شعلہ پیکر تھا کوئییا ہمارے سامنے یادوں کا لشکر تھا کوئیEhteram Islam (b. 1949)
- سرخ موسم کی کہانی ہے پرانی ہو نہ ہوآسماں کا رنگ آگے آسمانی ہو نہ ہوEhteram Islam (b. 1949)