آ گئی ساون کی رت کالی گھٹا چھانے لگی

Jafar Malihabadi (b. 1946)

آ گئی ساون کی رت کالی گھٹا چھانے لگی

پھر کسی کی یاد میرے دل کو تڑپانے لگی

آ گئی ساون کی رت کالی گھٹا چھانے لگی

چھیڑتی ہے پھر خوشی کے راگ ساون کی بہار

مسکراتی ہیں فضائیں ہر کلی پر ہے نکھار

پھر گھنے باغوں میں کوئل گیت بکھرانے لگی

آ گئی ساون کی رت کالی گھٹا چھانے لگی

بولتا ہے آہ جنگل میں پپیہا کیا کروں

پھر رلاتی ہے مجھے تیری تمنا کیا کروں

پھر محبت دل میں غم کی آگ بھڑکانے لگی

آ گئی ساون کی رت کالی گھٹا چھانے لگی

تو نہیں تو یہ سہانی رت مجھے بھاتی نہیں

دل دھڑکتا ہے مرا راتوں کو نیند آتی نہیں

ہر خوشی اب زندگی سے روٹھ کر جانے لگی

آ گئی ساون کی رت کالی گھٹا چھانے لگی