آنسوؤں کو اپنی پلکوں پر سجا کر لے گیا

Vijendra Singh Parwaz (b. 1943)

آنسوؤں کو اپنی پلکوں پر سجا کر لے گیا

میں بھی اس محفل میں کچھ شمعیں جلا کر لے گیا

ایک ایک چہرے سے جو نظریں بچا کر لے گیا

وہ بھی کس انداز کے جلوے چرا کر لے گیا

جسم میرا ہے مگر میں جسم میں ہوں ہی نہیں

ایک جھونکا یاد کا ایسا اڑا کر لے گیا

آئنہ کے سامنے اک آئنہ لگتا ہوں میں

جانے والا میری صورت تک چرا کر لے گیا

میرے دل میں جذب ہو کر رہ گیا تیرا وجود

تو جسے حاصل وہ پرچھائی اٹھا کر لے گیا

کچھ نہ پوچھو تم مری تخئیل کی پروازؔ کو

بھیڑ میں بھی بھیڑ سے دامن بچا کر لے گیا