ہو گئے رخصت مرے ارمان ایسا کچھ نہیں

Vijendra Singh Parwaz (b. 1943)

ہو گئے رخصت مرے ارمان ایسا کچھ نہیں

تیرا غم دل میں نہ ہو مہمان ایسا کچھ نہیں

اچھے اچھے تیرنے والوں کو دیکھا ڈوبتے

وقت کی ہم کو نہیں پہچان ایسا کچھ نہیں

میں کسی کا ہو کے تجھ کو بھول جاؤں کیا کہا

سچ تو یہ ہے میرا کہنا مان ایسا کچھ نہیں

اپنے اپنے راستے ہیں اپنی اپنی منزلیں

تیری مٹی میں ہو میری جان ایسا کچھ نہیں

ٹھیک ہے پروازؔ ہم کو مل نہ پائیں منزلیں

چھوڑ دیں امید کا میدان ایسا کچھ نہیں