گرتی دیواروں پہ کچھ پرچھائیاں رہنے لگیں
Badnam Nazar (1941–2023)گرتی دیواروں پہ کچھ پرچھائیاں رہنے لگیں
گھر کو ویراں دیکھ کر تنہائیاں رہنے لگیں
تاکہ زندہ رہ سکے ہر زخم دل کی تازگی
ساتھ میرے ہر گھڑی پروائیاں رہنے لگیں
جھومتی شاخوں میں کوئی پھل یا پھول آتا نہیں
بانجھ پیڑوں میں فقط انگڑائیاں رہنے لگیں
حق کی راہوں پر بہت دشوار ہے چلنا نظر
میرے پیچھے پیچھے بس رسوائیاں رہنے لگیں