تیری ہی تصویر میں تیرا بدل ڈھونڈا گیا
Vijendra Singh Parwaz (b. 1943)تیری ہی تصویر میں تیرا بدل ڈھونڈا گیا
کتنی آسانی سے اک مشکل کا حل ڈھونڈا گیا
تجھ کو دنیا کی نگاہوں سے بچانے کے لیے
دل کے دریا کی تہوں میں اک محل ڈھونڈا گیا
دن مہینے سال کیا صدیاں خفا ہونے لگیں
پیار کرنے کے لیے جب ایک پل ڈھونڈا گیا
میں جو آنکھیں موند کر ڈوبا ہوں تیری یاد میں
ڈالنے کے واسطے کوئی خلل ڈھونڈا گیا
کیا کہیں پائیں گے ہم ایسی مثال جستجو
آنکھ کی تشبیہ کی خاطر کنول ڈھونڈا گیا
کچھ بہانا مجھ کو سولی پر چڑھانے کے لیے
آج ڈھونڈے گی یہ دنیا جو نہ کل ڈھونڈا گیا
پہلے کاغذ آنسوؤں سے نم کیا پروازؔ نے
پھر ادائے خاص سے تجھ کو غزل ڈھونڈا گیا