پھول گالوں کو تو آنکھوں کو کنول کہتا رہا
Iftikhar Naseem (1946–2011)پھول گالوں کو تو آنکھوں کو کنول کہتا رہا
جنگ تھی باہر گلی میں میں غزل کہتا رہا
مر رہے تھے رفتہ رفتہ میرے سب محصور دوست
اور میں مسجد میں رب لم یزل کہتا رہا
شاعری کی اور نظر انداز کی بچوں کی بھوک
چاند کو روٹی کا میں نعم البدل کہتا رہا
آ پڑا دل پر مرے آخر مرا کہنہ وجود
روز دستک دے کے اس گھر سے نکل کہتا رہا
آ گئی آخر مرے سر پر مرے دشمن کی فوج
میں بھی تیاری کروں گا آج کل کہتا رہا
طے نہ کر پایا کبھی اپنا تشخص ہی نسیمؔ
آب زمزم کو ہمیشہ گنگا جل کہتا رہا