Poetry
- آپ اگر مہرباں نہیں ہوتےہم جہاں ہیں وہاں نہیں ہوتےFahmi Badayuni (b. 1952)
- آپ دیتے نہیں سزا کوئیکس بھروسے کریں خطا کوئیFahmi Badayuni (b. 1952)
- آخری بار دیکھنا ہے اسےپھر لگاتار دیکھنا ہے اسےFahmi Badayuni (b. 1952)
- اس سے اس کے بغیر باتیں کیںپھر بھی بولے بغیر باتیں کیںFahmi Badayuni (b. 1952)
- اس کے جیسا کوئی ملا ہی نہیںکیسے ملتا کہیں پہ تھا ہی نہیںFahmi Badayuni (b. 1952)
- اس نے کیا کیا نہیں دیا مجھ کوچین پھر بھی نہیں ملا مجھ کوFahmi Badayuni (b. 1952)
- ایک اگر پیمانہ ہوتامے خانہ مے خانہ ہوتاFahmi Badayuni (b. 1952)
- بس تمہارا مکاں دکھائی دیاجس میں سارا جہاں دکھائی دیاFahmi Badayuni (b. 1952)
- بہت دشوار ہے رستہ ہمارانہیں کر پاؤ گے پیچھا ہماراFahmi Badayuni (b. 1952)
- بھری محفل میں تنہا دیکھنا ہےاسے اس بار اتنا دیکھنا ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
- پرندے سہمے سہمے اڑ رہے ہیںبرابر میں فرشتے اڑ رہے ہیںFahmi Badayuni (b. 1952)
- پہلے احساس میں اتار اسےپھر خیالات سے گزار اسےFahmi Badayuni (b. 1952)
- تیرے جیسا کوئی ملا ہی نہیںکیسے ملتا کہیں پہ تھا ہی نہیںFahmi Badayuni (b. 1952)
- جاہلوں کو سلام کرنا ہےاور پھر جھوٹ موٹ ڈرنا ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
- جب ریتیلے ہو جاتے ہیںپربت ٹیلے ہو جاتے ہیںFahmi Badayuni (b. 1952)
- جو بنے گا وہی بنانا ہےکیا کریں چاک اسے گھمانا ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
- جو لکھا ہے وہی پڑھا ہے ابھیاس کا پہلا ہی خط ملا ہے ابھیFahmi Badayuni (b. 1952)
- خدا کو بھولنا آسان ہےہمارا مسئلہ انسان ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
- خط لفافے میں غیر کا نکلااس کا قاصد بھی بے وفا نکلاFahmi Badayuni (b. 1952)
- ذرا محتاط ہونا چاہیے تھابغیر اشکوں کے رونا چاہیے تھاFahmi Badayuni (b. 1952)
- رات اس کو رلا دیا میں نےسب غموں کا مزہ لیا میں نےFahmi Badayuni (b. 1952)
- سانپ بھی بین بھی مداری بھیہائے کیا بات ہے تمہاری بھیFahmi Badayuni (b. 1952)
- سمندر الٹا سیدھا بولتا ہےسلیقے سے تو پیاسا بولتا ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
- سہارے جانے پہچانے بنا لوںستونوں پر ترے شانے بنا لوںFahmi Badayuni (b. 1952)
- کبھی آواز دے اک بار کوئیاگر موجود ہے اس پار کوئیFahmi Badayuni (b. 1952)
- کوئی ملتا نہیں خدا کی طرحپھرتا رہتا ہوں میں دعا کی طرحFahmi Badayuni (b. 1952)
- لگتی نہیں ہے گرمی سردیپہن کے دیکھو قیس کی وردیFahmi Badayuni (b. 1952)
- موت کی سمت جان چلتی رہیزندگی کی دکان چلتی رہیFahmi Badayuni (b. 1952)
- نمک کی روز مالش کر رہے ہیںہمارے زخم ورزش کر رہے ہیںFahmi Badayuni (b. 1952)
- نہیں ہو تم تو ایسا لگ رہا ہےکہ جیسے شہر میں کرفیو لگا ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
- وفا داری غنیمت ہو گئی کیامحبت بھی مروت ہو گئی کیاFahmi Badayuni (b. 1952)
- وہ جو تمہاری مجبوری ہےوہی تو ساری مجبوری ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
- وہ کہاں ہے کتاب کے اندرجو لکھا تھا نصاب کے اندرFahmi Badayuni (b. 1952)
- وہ کہیں تھا کہیں دکھائی دیامیں جہاں تھا وہیں دکھائی دیاFahmi Badayuni (b. 1952)
- ہاتھ اس کے ہیں اور دعا میں ہوںیہ نہیں کہہ رہا خدا میں ہوںFahmi Badayuni (b. 1952)
- ہجر کی مات کاٹنے کے لئےکچھ تو ہو رات کاٹنے کے لئےFahmi Badayuni (b. 1952)
- ہم ترے غم کے پاس بیٹھے تھےدوسرے غم اداس بیٹھے تھےFahmi Badayuni (b. 1952)
- ہم تو روٹھے تھے آزمانے کوکئی آیا نہیں منانے کوFahmi Badayuni (b. 1952)
- ہم کو رستہ بتا کے لوٹ گئےہم سفر مسکرا کے لوٹ گئےFahmi Badayuni (b. 1952)
- ہم نے کھڑکی میں جاں بٹھا لی ہےاس کی آواز آنے والی ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
- یہاں یوں ہی نہیں پہنچا ہوں میںمسلسل رات دن دوڑا ہوں میںFahmi Badayuni (b. 1952)
- آپ تشریف لائے تھے اک روزدوسرے روز اعتبار ہواFahmi Badayuni (b. 1952)
- آج پیوند کی ضرورت ہےیہ سزا ہے رفو نہ کرنے کیFahmi Badayuni (b. 1952)
- اسے لے کر جو گاڑی جا چکی ہےمیں شاید اس کے نیچے آ رہا ہوںFahmi Badayuni (b. 1952)
- بدن کا ذکر باطل ہے تو آؤبنا سر پیر کی باتیں کریں گےFahmi Badayuni (b. 1952)
- پریشاں ہے وہ جھوٹا عشق کر کےوفا کرنے کی نوبت آ گئی ہےFahmi Badayuni (b. 1952)
- پوچھ لیتے وہ بس مزاج مراکتنا آسان تھا علاج مراFahmi Badayuni (b. 1952)
- ٹہلتے پھر رہے ہیں سارے گھر میںتری خالی جگہ کو بھر رہے ہیںFahmi Badayuni (b. 1952)
- جب تلک قوت تخیئل ہےآپ پہلو سے اٹھ نہیں سکتےFahmi Badayuni (b. 1952)
- جس کو ہر وقت دیکھتا ہوں میںاس کو بس ایک بار دیکھا ہےFahmi Badayuni (b. 1952)