یہاں یوں ہی نہیں پہنچا ہوں میں
Fahmi Badayuni (b. 1952)یہاں یوں ہی نہیں پہنچا ہوں میں
مسلسل رات دن دوڑا ہوں میں
تری زنجیر کا حصہ ہوں میں
رہا ہو بھی نہیں سکتا ہوں میں
تمہاری اوٹ میں جتنا ہوں میں
بس اتنا ہی نظر آتا ہوں میں
تمہارے سامنے بیٹھا ہوں میں
یہی تو سوچ کر زندہ ہوں میں
ڈراتا ہے خدا سے جب کوئی
خدا کے پیچھے چھپ جاتا ہوں میں
پریشاں دھوپ کرتی ہے مجھے
شکایت چاند سے کرتا ہوں میں
بہت کچھ کہنا پڑتا ہو جہاں
وہاں پر کچھ نہیں کہتا ہوں میں
منا لے گی اسے معلوم ہے
ابھی سچ مچ نہیں روٹھا ہوں میں