Poetry
- ٹھہرے پانی میں نہاں ایک حسیں خواب بھی ہےآس کی جھیل میں عکس رخ مہتاب بھی ہےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- چراغ دل کا تھا روشن بجھا گیا پانیکہ بن کے سیل بلا گھر میں آ گیا پانیEhtisham Akhtar (b. 1944)
- خواب آنکھوں میں نہاں ہے اب بھیبجھ گئی آگ دھواں ہے اب بھیEhtisham Akhtar (b. 1944)
- خیال و خواب کے پیکر بدلتے رہتے ہیںہم اپنی آگ میں ہر دم پگھلتے رہتے ہیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
- دل برباد کو چھوٹا سا مکاں بھی دے گاجب نیا زخم بھرے گا تو نشاں بھی دے گاEhtisham Akhtar (b. 1944)
- دل پہ خنجر وہ مار کر خوش ہیںاور ہم ہیں کہ ہار کر خوش ہیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
- دھوپ میں جل کر راہ ہوا ہوںجب بھی پیڑ سے میں ٹوٹا ہوںEhtisham Akhtar (b. 1944)
- راستے کی دھول نے پیروں کو زخمی کر دیابحر سے ماہی الگ کرنا مجھے آتا نہیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
- ستا رہی ہے بہت مچھلیوں کی باس مجھےبلا رہا ہے سمندر پھر اپنے پاس مجھےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- کبھی زمیں پہ کبھی نیلے آسمان میں ہوںہوا کی طرح میں ہر پل نئے مکان میں ہوںEhtisham Akhtar (b. 1944)
- کبھی نشیب میں تھا اور کبھی فراز میں تھایہ آبشار محبت دلوں کے راز میں تھاEhtisham Akhtar (b. 1944)
- گو اس کی شکل اب ہے کہن سال کی طرحبھولا نہیں میں گاؤں کی چوپال کی طرحEhtisham Akhtar (b. 1944)
- گو چاہتا تھا بہت پر یہ مجھ سے ہو نہ سکامیں ارض دل میں محبت کا بیج بو نہ سکاEhtisham Akhtar (b. 1944)
- مجھے حیات کے سانچوں میں ڈھالنے والےکہاں گئے وہ سمندر کھنگالنے والےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- مری حیات کو بے ربط باب رہنے دےورق ورق یوں ہی غم کی کتاب رہنے دےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- ورق ورق یہ فسانہ بکھرنے والا تھابچا لیا مجھے اس نے میں مرنے والا تھاEhtisham Akhtar (b. 1944)
- وہ جو کوئیں میں ڈوبا ہوگاشاید کوئی پیاسا ہوگاEhtisham Akhtar (b. 1944)
- ہزاروں سال سے میں جس کے انتظار میں تھاوہ عکس خواب تو میرے ہی اختیار میں تھاEhtisham Akhtar (b. 1944)
- اب چائے ٹھنڈی نہیں ہوگیداڑھی اب نہیں بڑھے گیEhtisham Akhtar (b. 1944)
- بادلوں کی طرح کیوںچھا گیا ہے دل پر غمEhtisham Akhtar (b. 1944)
- بلند بانگ دعووں کیآوازیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
- بند اٹیچی میںپڑا ہوا مل جاتا ہےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- تمہیں بھلانے کی کوشش میںمیں نےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- ٹوٹی ہوئی بوتل کی طرحبے کار بے مقصدEhtisham Akhtar (b. 1944)
- خالی گلاس کے مقدر میںہونٹوں کا لمس ہاتھوں کی نرمی کہاںEhtisham Akhtar (b. 1944)
- خواہش کے شکاری کتےمیرا پیچھا کر رہے ہیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
- دھوپ کتنی خوب صورت ہے یہاںحسیں چہروں پر دھوپEhtisham Akhtar (b. 1944)
- دھول اڑاتی ہے خیالوں کی گزر گاہوں میںریل کی پٹریاں پھیلی ہیں جہاں تک بھی نظر جاتی ہےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- روشنی کی کوئی سرحد نہیںکوئی مذہب نہیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
- زندگیبس کی قطار کے عشق کی طرحEhtisham Akhtar (b. 1944)
- سہانے دنوں کی سرگوشیاںتنہا شام کی اداسیاںEhtisham Akhtar (b. 1944)
- قہقہے ہواؤں میں بکھر گئےکرسیاں اور ٹیبلیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
- کل بھی بارش ہوئی تھیآج بھی بارش ہوگیEhtisham Akhtar (b. 1944)
- کیچڑ سے آلودہراستے سےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- میرا سایہمیرے قد سے بڑا ہےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- ہوا کمرے میں آتی ہےہوا تو روز آتی ہےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- باغ کے ایک گوشے میں لیٹے ہوئےاس بوڑھے کو کیا خبرEhtisham Akhtar (b. 1944)
- تم مجھے چھوڑ کرمجھ سے رشتے ناطے توڑ کرEhtisham Akhtar (b. 1944)
- دھوپکھڑی تھی باہرEhtisham Akhtar (b. 1944)
- دھول سے اٹے کولتار زدہ راستومیں پھر آؤں گاEhtisham Akhtar (b. 1944)
- کھلے نیلے آکاش کی کترنپیراہن خواب کی دھجیاںEhtisham Akhtar (b. 1944)
- گرمی بہت ہے لیکن تماپنے کمرے کی کھڑکیاں اور دروازے بند کر لوEhtisham Akhtar (b. 1944)
- مٹی کے برتن میںرکھی ہوئی خواہشیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
- میں الفاظ کا تحفہ کاغذ میں لپیٹ کر لایا تھا کہ تمہیں نذر کروں گاوہ راستے ہی میں بکھر گیاEhtisham Akhtar (b. 1944)
- وقتکسی کا انتظار نہیں کرتاEhtisham Akhtar (b. 1944)
- ویران وادی میںلیٹی ہوئی جھیل کوEhtisham Akhtar (b. 1944)
- ہاتھ کی ریکھااک ہوٹل کا نام بنی ہےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- سوچ ان کی کیسی ہے کیسے ہیں یہ دیوانےاک مکاں کی خاطر جو سو مکاں جلاتے ہیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
- شہر کے اندھیرے کو اک چراغ کافی ہےسو چراغ جلتے ہیں اک چراغ جلنے سےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- مرے عزیز ہی مجھ کو سمجھ نہ پائے کبھیمیں اپنا حال کسی اجنبی سے کیا کہتاEhtisham Akhtar (b. 1944)