Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ٹھہرے پانی میں نہاں ایک حسیں خواب بھی ہےآس کی جھیل میں عکس رخ مہتاب بھی ہےEhtisham Akhtar (b. 1944)
  2. چراغ دل کا تھا روشن بجھا گیا پانیکہ بن کے سیل بلا گھر میں آ گیا پانیEhtisham Akhtar (b. 1944)
  3. خواب آنکھوں میں نہاں ہے اب بھیبجھ گئی آگ دھواں ہے اب بھیEhtisham Akhtar (b. 1944)
  4. خیال و خواب کے پیکر بدلتے رہتے ہیںہم اپنی آگ میں ہر دم پگھلتے رہتے ہیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
  5. دل برباد کو چھوٹا سا مکاں بھی دے گاجب نیا زخم بھرے گا تو نشاں بھی دے گاEhtisham Akhtar (b. 1944)
  6. دل پہ خنجر وہ مار کر خوش ہیںاور ہم ہیں کہ ہار کر خوش ہیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
  7. دھوپ میں جل کر راہ ہوا ہوںجب بھی پیڑ سے میں ٹوٹا ہوںEhtisham Akhtar (b. 1944)
  8. راستے کی دھول نے پیروں کو زخمی کر دیابحر سے ماہی الگ کرنا مجھے آتا نہیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
  9. ستا رہی ہے بہت مچھلیوں کی باس مجھےبلا رہا ہے سمندر پھر اپنے پاس مجھےEhtisham Akhtar (b. 1944)
  10. کبھی زمیں پہ کبھی نیلے آسمان میں ہوںہوا کی طرح میں ہر پل نئے مکان میں ہوںEhtisham Akhtar (b. 1944)
  11. کبھی نشیب میں تھا اور کبھی فراز میں تھایہ آبشار محبت دلوں کے راز میں تھاEhtisham Akhtar (b. 1944)
  12. گو اس کی شکل اب ہے کہن سال کی طرحبھولا نہیں میں گاؤں کی چوپال کی طرحEhtisham Akhtar (b. 1944)
  13. گو چاہتا تھا بہت پر یہ مجھ سے ہو نہ سکامیں ارض دل میں محبت کا بیج بو نہ سکاEhtisham Akhtar (b. 1944)
  14. مجھے حیات کے سانچوں میں ڈھالنے والےکہاں گئے وہ سمندر کھنگالنے والےEhtisham Akhtar (b. 1944)
  15. مری حیات کو بے ربط باب رہنے دےورق ورق یوں ہی غم کی کتاب رہنے دےEhtisham Akhtar (b. 1944)
  16. ورق ورق یہ فسانہ بکھرنے والا تھابچا لیا مجھے اس نے میں مرنے والا تھاEhtisham Akhtar (b. 1944)
  17. وہ جو کوئیں میں ڈوبا ہوگاشاید کوئی پیاسا ہوگاEhtisham Akhtar (b. 1944)
  18. ہزاروں سال سے میں جس کے انتظار میں تھاوہ عکس خواب تو میرے ہی اختیار میں تھاEhtisham Akhtar (b. 1944)
  19. اب چائے ٹھنڈی نہیں ہوگیداڑھی اب نہیں بڑھے گیEhtisham Akhtar (b. 1944)
  20. بادلوں کی طرح کیوںچھا گیا ہے دل پر غمEhtisham Akhtar (b. 1944)
  21. بلند بانگ دعووں کیآوازیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
  22. بند اٹیچی میںپڑا ہوا مل جاتا ہےEhtisham Akhtar (b. 1944)
  23. تمہیں بھلانے کی کوشش میںمیں نےEhtisham Akhtar (b. 1944)
  24. ٹوٹی ہوئی بوتل کی طرحبے کار بے مقصدEhtisham Akhtar (b. 1944)
  25. خالی گلاس کے مقدر میںہونٹوں کا لمس ہاتھوں کی نرمی کہاںEhtisham Akhtar (b. 1944)
  26. خواہش کے شکاری کتےمیرا پیچھا کر رہے ہیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
  27. دھوپ کتنی خوب صورت ہے یہاںحسیں چہروں پر دھوپEhtisham Akhtar (b. 1944)
  28. دھول اڑاتی ہے خیالوں کی گزر گاہوں میںریل کی پٹریاں پھیلی ہیں جہاں تک بھی نظر جاتی ہےEhtisham Akhtar (b. 1944)
  29. روشنی کی کوئی سرحد نہیںکوئی مذہب نہیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
  30. زندگیبس کی قطار کے عشق کی طرحEhtisham Akhtar (b. 1944)
  31. سہانے دنوں کی سرگوشیاںتنہا شام کی اداسیاںEhtisham Akhtar (b. 1944)
  32. قہقہے ہواؤں میں بکھر گئےکرسیاں اور ٹیبلیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
  33. کل بھی بارش ہوئی تھیآج بھی بارش ہوگیEhtisham Akhtar (b. 1944)
  34. کیچڑ سے آلودہراستے سےEhtisham Akhtar (b. 1944)
  35. میرا سایہمیرے قد سے بڑا ہےEhtisham Akhtar (b. 1944)
  36. ہوا کمرے میں آتی ہےہوا تو روز آتی ہےEhtisham Akhtar (b. 1944)
  37. باغ کے ایک گوشے میں لیٹے ہوئےاس بوڑھے کو کیا خبرEhtisham Akhtar (b. 1944)
  38. تم مجھے چھوڑ کرمجھ سے رشتے ناطے توڑ کرEhtisham Akhtar (b. 1944)
  39. دھوپکھڑی تھی باہرEhtisham Akhtar (b. 1944)
  40. دھول سے اٹے کولتار زدہ راستومیں پھر آؤں گاEhtisham Akhtar (b. 1944)
  41. کھلے نیلے آکاش کی کترنپیراہن خواب کی دھجیاںEhtisham Akhtar (b. 1944)
  42. گرمی بہت ہے لیکن تماپنے کمرے کی کھڑکیاں اور دروازے بند کر لوEhtisham Akhtar (b. 1944)
  43. مٹی کے برتن میںرکھی ہوئی خواہشیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
  44. میں الفاظ کا تحفہ کاغذ میں لپیٹ کر لایا تھا کہ تمہیں نذر کروں گاوہ راستے ہی میں بکھر گیاEhtisham Akhtar (b. 1944)
  45. وقتکسی کا انتظار نہیں کرتاEhtisham Akhtar (b. 1944)
  46. ویران وادی میںلیٹی ہوئی جھیل کوEhtisham Akhtar (b. 1944)
  47. ہاتھ کی ریکھااک ہوٹل کا نام بنی ہےEhtisham Akhtar (b. 1944)
  48. سوچ ان کی کیسی ہے کیسے ہیں یہ دیوانےاک مکاں کی خاطر جو سو مکاں جلاتے ہیںEhtisham Akhtar (b. 1944)
  49. شہر کے اندھیرے کو اک چراغ کافی ہےسو چراغ جلتے ہیں اک چراغ جلنے سےEhtisham Akhtar (b. 1944)
  50. مرے عزیز ہی مجھ کو سمجھ نہ پائے کبھیمیں اپنا حال کسی اجنبی سے کیا کہتاEhtisham Akhtar (b. 1944)