دھول اڑاتی ہے خیالوں کی گزر گاہوں میں
Ehtisham Akhtar (b. 1944)دھول اڑاتی ہے خیالوں کی گزر گاہوں میں
ریل کی پٹریاں پھیلی ہیں جہاں تک بھی نظر جاتی ہے
دور حاضر نے مسافت کا بھرم توڑ دیا
فاصلے رات کی دیوار کی مانند نہیں
پھر بھی ہم دور بہت دور رہے ہیں اب تک