گو اس کی شکل اب ہے کہن سال کی طرح

Ehtisham Akhtar (b. 1944)

گو اس کی شکل اب ہے کہن سال کی طرح

بھولا نہیں میں گاؤں کی چوپال کی طرح

صحرائے حرص و آز میں کوئی تو آئے گا

پھیلاؤں اپنے آپ کو میں جال کی طرح

اندر کا رس نچوڑا تو شاداب تھا بہت

لگتا تھا یوں تو سوکھی ہوئی ڈال کی طرح

مجھ سے کہاں بچے گا کہ ہر رگ میں ہوں نہاں

پھیلا ہوں تیرے جسم میں میں جال کی طرح

کب سے ہے انتظار کہ آئے کوئی ادھر

میں دشت میں ہوں جادۂ پامال کی طرح