ہوا کمرے میں آتی ہے

Ehtisham Akhtar (b. 1944)

ہوا کمرے میں آتی ہے

ہوا تو روز آتی ہے

ہوا کا لمس ارزاں ہے

صدا بھی روز آتی ہے

سماعت بھی تو ارزاں ہے

نہ جانے لوگ کیسے ہیں

ہوا سے عشق کرتے ہیں

صدا پر جان دیتے ہیں

مجھے دونوں سے نفرت ہے

کہ میں نے چھو لیا سب کچھ

کہ میں نے سن لیا سب کچھ