راستے کی دھول نے پیروں کو زخمی کر دیا

Ehtisham Akhtar (b. 1944)

راستے کی دھول نے پیروں کو زخمی کر دیا

بحر سے ماہی الگ کرنا مجھے آتا نہیں

بیٹھ جاؤں دو گھڑی آرام سے یارو کہیں

زندگی کے دشت میں ایسا کوئی سایہ نہیں

خواب سا سندر بدن تھا بستر کمخواب پر

رات بھر پھر بھی مرے دل نے سکوں پایا نہیں

چھا گئی ہے خامشی کی برف میرے ذہن پر

کلپنا کے دیش میں سورج کبھی مرتا نہیں

نرم جسموں کی خوشی آنکھوں میں بھر کر رات کو

سبزۂ خود رو پہ اخترؔ میں کبھی سویا نہیں